Back to Collection

Aate Rahe Ambiya Kama Qeela Lahum

Written by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan Barelvi

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

آتے رہے انبیاء کما قیل لہم

والخاتم حقکم کہ خاتم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفترِ تنزیل تمام

آخر میں ہوئی مہر کہ اکملت لکم

شب لحیہ و شارب ہے رخِ روشن دن

گیسو و شبِ قدر و براتِ مؤمن

مژگاں کی صفیں چار ہیں، دو ابرو ہیں

والفجر کے پہلو میں لیالٍ عشرٍ

اللہ کی سر تا بہ قدم شان ہے یہ

انساں نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

بوسہ گہِ اصحاب وہ مہرِ سامی

وہ شانہءِ چپ میں اس کی عنبر فامی

یہ طرفہ کہ ہے کعبہءِ جان و دل میں

سنگِ اسود نصیبِ رکنِ شامی

کعبے سے اگر تربتِ شہ فاضل ہے

کیوں بائیں طرف اس کے لیے منزل ہے

اس فکر میں جو دل کی طرف دھیان گیا

سمجھا کہ وہ جسم ہے یہ مرقدِ دل

تم جو چاہو تو قسمت کی مصیبت ٹل جائے

کیوں کر کہوں ساعت سے قیامت ٹل جائے

لِلہ اٹھا دو رخِ روشن سے نقاب

مولیٰ میری آئی ہوئی شامت ٹل جائے

یاں، شبہ شبیہ کا گزرنا کیسا!

بے مثل کی تمثال سنورنا کیسا

ان کا متعلق ہے ترقی پہ مدام

تصویر کا پھر کہئے اترنا کیسا

یہ شہ کی تواضع کا تقاضا ہی نہیں

تصویر کھچے ان کو گوارا ہی نہیں

معنی ہیں یہ معنی کہ کرم کیا مانے

کھچنا تو یہاں کسی سے ٹھہرا کیا ہے