Back to Collection

Agar Chamka Muqaddar Khaak Paye Rah-rwaan Ho Kar

Written by Maulana Hasan Raza Khan (Hasan)

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

اگر چمکا مقدر خاکِ پائے رہرواں ہو کر

چلیں گے بیٹھتے اٹھتے غبارِ کارواں ہو کر

شبِ معراج وہ دم بھر میں پلٹے لامکاں ہو کر

بہارِ ہشتِ جنت دیکھ کر ہفت آسماں ہو کر

چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں

مجھے گلزار کا سبزہ رلاتا ہے دھواں ہو کر

تصور اس لبِ جاں بخش کا کس شان سے آیا

دلوں کا چین ہو کر جاں کا آرامِ جاں ہو کر

کریں تعظیم میری سنگِ اسود کی طرح مومن

تمہارے در پہ رہ جاؤں جو سنگِ آستاں ہو کر

دکھا دے یا خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کو

پھروں کب تک پریشاں بلبلِ بے آشیاں ہو کر

ہوئے یمنِ قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ

خلاصہ یہ کہ سرکار آئے ہیں جانِ جہاں ہو کر

ترے دستِ عطا نے دولتیں دیں دل کیے ٹھنڈے

کہیں گوہر فشاں ہو کر کہیں آبِ رواں ہو کر

فدا ہو جائے امت اس حمایت اس محبت پر

ہزاروں غم لیے ہیں ایک دل پر شادماں ہو کر

جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہیءِ جاوید کی خواہش

نشاں قائم کریں ان کی گلی میں بے نشاں ہو کر

وہ جس راہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک

نصیب اس گھر کے جس گھر میں وہ ٹھہریں مہماں ہو کر

حسن کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو

زمینِ ہند سرگرداں رکھے گی آسماں ہو کر