Back to Collection

Ba Khat’t e Noor Is Dar Par Likha He

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

بخطِ نور اس در پر لکھا ہے

یہ بابِ رحمتِ ربِّ اعلیٰ ہے

سرِ خیرہ جو اب در پہ جھکا ہے

ادا ہے عمر بھر کی جو قضا ہے

مقابل در کے یوں کعبہ بنا ہے

یہ قبلہ ہے، تو تو قبلہ نما ہے

درِ والا پہ اک میلہ لگا ہے

عجب اس در کے ٹکڑوں میں مزہ ہے

یہاں سے کب کوئی خالی پھرا ہے

سخی داتا کی یہ دولت سرا ہے

گدا تو ہے گدا، جو بادشاہ ہے

اسے بھی تو اسی در سے ملا ہے

جِسَے جو کُچھ مِلا جِس سے مِلا ہَے

حَقِیقَت میں وہ اِس دَر کی عَطا ہَے

اِسی سَرکار کا مانگتا ہَے عالَم

گَدا اِس دَر کا ہَر شاہ و گَدا ہَے

یَہاں سے بھیْک پاتے ہیں سَلاطِین

اِسی دَر سے اُنہیں تُکڑا مِلا ہَے

اِسی دَر سے پَلگا پَل رہا ہَے

اِسی گھر سے زَمانہ پَل چُکا ہَے

شَبِ معراج سے زَاہِر ہُوا ہَے

رُسُل ہیں مُقتَدی، تُو مُقتَدا ہَے

خُدائی کو خُدا نے جو دِیا ہَے

اُسی گھر سے اُسی دَر سے مِلا ہَے

خداِ پاک تو گھر در سے ہے پاک

مگر یہ در، درِ پاکِ خدا ہے

یہاں وہ باخدا ہے جلوہ فرما

جو کشتی کا جہاں کی ناخدا ہے

شاہِ عرش آستاں؛ اللہ اللہ

تصوّر سے خدا، یاد آ رہا ہے

یہ وہ محبوبِ حق ہے جس کی رویت

یقیں مانو کہ دیدارِ خدا ہے

یداللہ جس کا دستِ پاک ٹھرے

وہ بیعت جس کی بیعت بخدا ہے

As Being Launched By Allah, His Throwing Has Been Regarded,

‘Allah Launched It’ In The Glorious Book of Allah, It Has Been Stated

قسَم قُرآن میں جِس کی راہ گزر کی

خُدا نے یاد کی، کیا مرتبہ ہے

وحی مطلوب جِس کا ہر ہر انداز

وحی محبوب جِس کی ہر ادا ہے

ہوا سے پاک جِس کی ذاتِ قُدسی

وہ جِس کی بات بھی وحیِ خُدا ہے

نہیں کہتے ہواءِ نفس سے کچھ

جو فرمائیں وحیِ خُدا ہے

چمک سے جِن کی روشن ہیں دو عالَم

مہک سے جِس کی ہر بُستاں بسا ہے

وہ جلوہ جِس سے حق ہے آشکارا

وہ صورت جو جمالِ حق نما ہے

وہی یکتا آئینہ ذاتِ احد کا

وہی مرآتِ صفاتِ کبریا ہے

وہ پیارا جس پہ ربّ ہے ایسا پیارا

کہ اس کے پیارے پر پیارا خدا ہے

وہ جس کا شہر بھی ہے ایسا پیارا

جہاں کی رات دن سے بھی سوا ہے

جہاں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ

جہاں شاہ و گدا، سب کا ٹھیا ہے

دوا دکھ درد کی ہے خاک جس کی

معاصی کا جہاں دار الشفا ہے

کرم فرمائیے اے سرورِ دیں

جہاں مانگوں کی پیہم یہ صدا ہے

خزانے اپنے دے کے تم کو حق نے

نہ قاسم ہی کے، مالک کر دیا ہے

جسے جو چاہو، جتنا چاہو، دو تم

تمہیں مختارِ کل فرما دیا ہے

دو عالم بھیک لیتے ہیں یہاں سے

جو جس کے پاس ہے تیرا دیا ہے

نہ مانگیں تم سے ہم تو کس سے مانگیں

ہیں سب در بند، بس یہ در کھلا ہے

میں در در کیوں پھروں در دور سنوں کیوں

میرے سرور میرے کیا سر پھرا ہے

عطاہ فرماتے ہو بے مانگے سب کچھ

یہ مانگتا تم سے تم کو مانگتا ہے

تمھارا ملنا، ملنا ہی خدا کا

خدا مل جائے تو پھر کیا رہا ہے

عطایئے اپنے کرم سے

میرے مولا جو دل کا مدعا ہے

یہی سرکارِ فیض آثار ہے وہ

جہاں سے فیض کا دریا بہا ہے

یہیں سے پاتے ہیں سب اپنے مطلب

ہر اک کے واسطے یہ در کھلا ہے

بہ ہر لحظہ بہ ہر ساعت بہ ہر دم

درِ سرکارِ فیض آثار وا ہے

نہیں تقسیم میں تفریق کچھ بھی

کہ دشمن بھی یہیں کا کہہ رہا ہے

یہ وہ در ہے، ہوا ہے وہ بھی حاضر

جو اس سرکار کا دشمن چھپا ہے

سلامِ روئے ستائی بے غرض نیست

وہ کیا تعظیم کو حاضر ہوا ہے

عقیدے میں تو اس کے شرک ہے یہ

دکھانے کو تقیہ کر لیا ہے

جلا ایمان سے ہوتی ہے دل پر

وہ اندھا شیشہ ہے، جو بے جلا ہے

نہیں شیشہ، نہیں وہ دل، تو جس پر

خدا نے ختم فرمادی طبع ہے

نہ ترشے مطہر حق کے بوند جس پر

لھابی کیا ہے، ایک چکنا گھڑا ہے

بہت بد فرقے پیدا ہو چکے ہیں

سبھی نے ایک نیا مذہب گھڑا ہے

جو مذہب اہل سنت کے علاوہ

بنا ہے وہ جہنم کا گڑھا ہے

جماعت پر یدِ رحمت ہے حق کا

جدا فرقہ جہنم میں گرا ہے

ہے ان میں ایک فرقہ سب سے بدتر

جسے شرک از امورِ عامہ ہے

نہیں جس سے کوئی موجود خالی

کوئی بھی اس کی زد سے بچ سکا ہے

ہر ایک اس شرک سے ٹھہرا جو مشرک

جو ہے، یا ہوگا، یا آگے ہوا ہے

صحابہ، خود نبی، بلکہ خود اللہ

سبھی پر حکمِ شرک اس نے جڑا ہے

جسے بدعت کی لت اتنی پڑی ہے

کہ سنت کو بھی بدعت بولتا ہے

مئے بدعت سے ہے سرشار ایسا

کہ سب کچھ اس کو بدعت سوجھتا ہے

تھی اتنی تند مئے جس کے نشے میں

کہ خود اپنے ہی کو بھولا ہوا ہے

یہ خود ہے بدعتی مشرک یقیناً

مگر سنی کو بدعی جانتا ہے

ہیں اس کی شرک و بدعت اہل گہلے

سراپا جن میں خود ڈوبا ہوا ہے

یہ ایسا اس کا حکمِ شرک و بدعت

اسے ساون کے اندھے کا ہرا ہے

ہے سنّی آئینہ، اس نے جو دیکھا

نज़र اپنا ہی چہرہ آ گیا ہے

اسے من ابتدأ تو رہ گیا یاد

مگر من صنعنا یہ بھولا ہوا ہے

خود اپنے فتووں سے آپ مشرک،

نہ بس مشرک ہی، یہ مشرک جانا ہے

نہیں ہے باپ ہی مشرک کہ جدّ بھی

اور اس کا جدّ، جہاں تک سلسلہ ہے

کھلی تنقیسیں محبوبانِ حق کی

یہ فرقہ برملا کرتا رہا ہے

کھلی توہین کی ہے خود، خدا کی

کہ اس کو کذب پر قادر کہا ہے

ناممکن ہی کہا، بلکہ یہاں تک

بڑھا ہے یہ کہ، واقع کہہ گیا ہے

نہ بس ایک کذب پر ہی اس نے بس کی

کہ جہل و ظلم و سرقہ بھی کہا ہے

تمہیں حق نے دیے ہیں وہ فضائل

کہ شرکت ان میں ہونا نا روا ہے

مماثل ہو نہیں سکتا تمہارا

تمہیں وہ فضلِ کل رب نے دیا ہے

تمہاری بے مثالی اس سے ظاہر

کہ محبوبِ خدا تم کو کیا ہے

محب کیا چاہتا ہے مثلِ محبوب!

محب تو بے مثالی چاہتا ہے

مگر یہ فرقہ محبوبِ خدا کے

کروڑوں مثل ممکن مانتا ہے

ناممکن ہی کہ، چھ مثل واقعؔ

کہا کرتا کتب میں چھاپتا ہے

یوں ہی ختمِ نبوّت کا ہے معنیؔ

شفاعت سے بھی منکر ہو گیا ہے

مسلمانوں کے ڈر سے لفظ مانے

مگر مانا کا معنیؔ برملا ہے

جو مانا ان کے ہیں ماثور اب تک،

صراحت سے انہیں رد کر رہا ہے

کہاں تک ظلم، میں اس کے گناؤں

کہاں تک میں گنوں کیا کیا بکا ہے

نفی جس علم کی سرکار سے کی

उसी کو نص سے شیطان کو دیا ہے

محیطِ ارض کا شیطان کو جب

یہ نص سے علم ثابت مانتا ہے

شریک ابلیس کو کرتا ہے حق کا

کہ شیطان کو یہ حق جانتا ہے

وہ کچھ مانے بہر صورت وہ خود ہی

بڑا مشرک بحکمِ خود بنا ہے

مجانیں و صبی، حیواں، بہائم

یہ ان سب کے لیے بھی مانتا ہے

نبی، غیرِ نبی میں فرق پوچھا

بتاؤ اُن میں اِن میں، فرق کیا ہے

انہیں جیسا بتایا علمِ اقدس

کہا ہے بعض میں، تخصیص کیا ہے

نفیِ شاہ سے بوجہِ شرک کی بھی

مگر پھر بھی اُسی میں مبتلا ہے

جو قسمت میں لکھا تھا، کیوں نہ ہوتا

کہیں تقدیر کا لکھا مٹا ہے

کریں لاکھوں جتن ہوتا وہ ہی

وہی ہوگا جو قسمت میں بڑھا ہے

خیالِ خار میں استغراق سے بد

جو تعظیمِ نبی کو جانتا ہے

اگر اُس کو کوئی اتنا کہے گا

کہ وہ انساں نہیں، خاصہ گدا ہے

بکھر جائیں گے اُس پر کیسا، کیسا

جنہیں تہذیبِ نو کا ادّعا ہے

It Is A Blessing To Speak Against The Faults Of The Enemies Depraved,

‘May Both Hands Of Abu Lahab Be Ruined’ In The Qur’an, It Is Explicitly Mentioned

ضیاءِ کعبہ سے روشن ہیں آنکھیں

منوّر قلب کیسا ہو گیا ہے

ہماری حاضری نورٌ علیٰ نور

کہ بعدِ حج ہمیں حاضر کیا ہے

ضیاءِ روضہ کا عالم کہوں کیا

کہ وہ تو نورِ کعبہ سے سوا ہے

یہاں محبوبِ ربّ ہے جلوہ آرا

وہاں بس اک تجلّی کی ضیا ہے

ہے یہ تو وصل سے سر سبز دل شاد

وہ نارِ ہجر سے دل سوختہ ہے

ماہ و خورشید پاتے ہیں یہاں سے

ضیاِ روضہ کا کہنا ہی کیا ہے

فضاِ طیبہ کے قربان جاؤں

نسیمِ خلد سے جس کی ہوا ہے

خفیف و خوش مزہ، بے مثل پانی

کہیں دنیا میں ایسا کب پیا ہے

زمینِ پاک وہ جس کو خدا نے

کتاب‌اللہ میں ارض‌اللہ کہا ہے

ہمیں تو طیبہ ہی جنت سے بڑھ کر

جہاں محبوبِ حق جلوہ نما ہے

قدم ہم جیسوں کے اس سر زمین میں

کرم سرکار کا ہے، اور کیا ہے

وطن کی ہر سہانی صبح نوری

یہاں کی شامِ غربت پر فدا ہے