Bahaar e Gulshan
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaاُنکو دِیکھا تو گیا، بھُول میں غَم کی صُورت
یاد بھی اب تو نہیں، رَنج و اَلَم کی صُورت
خواب میں دیکھُوں اگر، دافعِ غَم کی صُورت
پھر نہ واقع ہو کبھی، رَنج و اَلَم کی صُورت
آبلے پاؤں میں پڑ جائیں، جو چلتے چلتے
راہِ طیبہ میں چلُوں، سر سے قدم کی صُورت
تم اگر چاہو تو، اِک چینِ جبیں سے اپنی
کر دو اعدا کو قلم، شاخِ قلم کی صُورت
نامِ والا تیرا، اے کاش مثالِ مجنوں
رِیت پر انگلیوں سے، لکھُوں قلم کی صُورت
تیرا دیدار کرے، رحمِ مجسّم تیرا
دیکھنی ہو جسے، رحمان کے کرم کی صُورت
آپ ہیں شانِ کرم، کانِ کرم، جانِ کرم
آپ ہیں فضلِ اتم، لطفِ عام کی صورت
ایک اشارہ تیرے ابرو کا، شاہِ ہر دو سرا
کاٹ دے دشمنوں کو تیغِ دو دم کی صورت
آپ کا مثلِ شہا، کیسے نظر میں آئے
کس نے دیکھی ہے بھلا، اہلِ عدم کی صورت
موم ہے ان کے قدم کے لیے دل پتھر کا
سنگ نے دل میں رکھی، ان کے قدم کی صورت
خواب میں بھی نہ نظر آئے، اگر تم چاہو
درد و غم، رنج و الم، ظلم و ستم کی صورت
اے سحابِ کرم، اک بوند کرم کی پڑ جائے
صفحۂ دل سے میرے، محو ہو غم کی صورت
جب سے سوکھے ہیں میرے کشتِ عمل باغِ عمل
یاد آتی ہے مجھے، ابرِ کرم کی صورت
صفحۂ دل پہ میرے، نامِ نبی کندہ ہو
نقش ہو دل پہ میرے، ان کے علم کی صورت
تیری تصویر کھینچے، روحِ منور کیوںکر
کیسے کھینچے کوئی، مصباحِ ظلم کی صورت
آئیں جو خواب میں وہ، ہو شبِ غم عید کا دن
جائیں تو عید کا دن، ہو شبِ غم کی صورت
جائیں گلشن سے تو لٹ جائے بہارِ گلشن
دشت میں آئیں، تو ہو دشتِ ارم کی صورت
بھیڑ کو خوف نہ ہو، شیر سے جو تم چاہو
تم جو چاہو تو بنے، شیر غنم کی صورت
کوہ ہو جائیں اگر، چاہو تو سونا چاندی
سنگریزے بنیں دینار و درم کی صورت
صورتِ پاک وہ بے مثل ہے پائی تم نے
جس کی ثانی نہ عرب، اور نہ عجم کی صورت
دم نکل جائے میرا، راہ میں ان کی نوری
ان کے کوچے میں، رہوں نقشِ قدم کی صورت