Back to Collection

Bakht e Khufta

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

بختِ خفتہ نے، مجھے روضے پہ، جانے نہ دیا

چشم و دل سینے، کلیجے سے، لگانے نہ دیا

آہ قسمت مجھے، دنیا کے، غموں نے روکا

ہائے تقدیر، کہ طیبہ، مجھے جانے نہ دیا

پاؤں تھک جاتے، اگر پاؤں بناتا، سر کو

سر کے بل جاتا، مگر ضعف نے، جانے نہ دیا

اتنا کمزور کیا، ضعفِ قویٰ، نے مجھ کو

پاؤں تو پاؤں، مجھے سر بھی، اٹھانے نہ دیا

سر تو سر، جان سے جانے کی، مجھے حسرت ہے

موت نے ہائے، مجھے جان سے، جانے نہ دیا

حالِ دل کھول کے، دل آہ، ادا کر نہ سکا

اتنا موقع ہی مجھے، میری قضا، نے نہ دیا

ہائے اس دل کی لگی کو، میں بجھاؤں کیوں کر

فرطِ غم نے، مجھے آنسو بھی، گرانے نہ دیا

ہاتھ پکڑے ہوئے، لے جاتے، جو طیبہ مجھ کو

ساتھ اتنا، بھی تو میرے، رفقاء نے نہ دیا

سجدہ کرتا، جو مجھے اس کی، اجازت ہوتی

کیا کروں، اذن مجھے اس کا، خدا نے نہ دیا

حسرتِ سجدہ یوں ہی، کچھ تو، نکلتی لیکن

سر بھی، سرکار نے قدموں پہ، جھکانے نہ دیا

کوچۂ دل، کو بسا جاتی، مہک سے تیری

کام اتنا بھی، مجھے بادِ صبا نے، نہ دیا

کبھی بیمارِ محبت، بھی ہوئے ہیں اچھے

روز افزوں ہے، مرض کام، دوا نے نہ دیا

شربتِ دید نے، اور آگ لگادی، دل میں

تپشِ دل کو، بڑھایا ہے، بجھانے نہ دیا

اب کہاں جائیگا، نقشہ تیرا، میرے دل سے

تہہ میں رکھا ہے، اسے دل نے، گمانے نہ دیا

دیس سے ان کے جو الفت ہے، تو دل نے میرے

اس لیے، دیس کا جنگلہ بھی، تو گانے نہ دیا

دیس کی دھن، ہے وہی راگ، الاپا اس نے

نفس نے ہاے، خیال اس کا، مٹانے نہ دیا

نفسِ بدکار، نے دل پر، یہ قیامت توڑی

عملِ نیک، کیا بھی، تو چھپانے نہ دیا

نفس بدکیش ہے، کس بات کا، دل پہ شاکی

کیا برا دل نے کیا، ظلم کمانے نہ دیا

میرے اعمال کا بدلہ، تو جہنم ہی تھا

میں تو جاتا، مجھے سرکار نے، جانے نہ دیا

میرے اعمالِ سیاہ نے، کیا جینا دُوبھر

زہر کھاتا، تیرے ارشاد نے، کھانے نہ دیا

اور چمکتی سی غزل کوئی، پڑھو اے نوری

رنگ اپنا، ابھی جمنے، شعرا نے نہ دیا