Back to Collection

Bazm E Jahaan Machal Gayi

Written by Ustad Qamar Jalalvi

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

بزمِ جہاں مچل گئی

بزمِ جہاں مچل گئی

بزمِ جہاں مچل گئی چاند کا دل ہلا دیا

شاید کسی حسیں نے رخ سے نقاب اٹھا لیا

آیا جو میرے سامنے بن سنور کے وہ صنم

بن گئے بت پرست ہم دین و ایمان لٹا دیا

حق پرستی میں کبھی دل کا سہارا نہ ہوا

بت پرستی کے سوا حق کا نظارہ نہ ہوا

دل میں حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا

میں نہ تھا خود ہی خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا

غیر حق جان کے بت کو نہ کیا تھا سجدہ

تو اے بت سجدہ روا تھا مجھ کو معلوم نہ تھا

کافرِ عشق ہوئے ہم تو ثنا بھول گئے

نہ وہ بت یاد رہا نامِ خدا بھول گئے

بے صورتی ہے صورت صورت پرست ہو جا

ہے خاص حق پرستی تو بت پرست ہو جا

ایسا حشر بپا دیا اس بتِ حسنِ ناز نے

زلفِ دو تار سنوار کر کافر مجھے بنا دیا

اے غمِ یار شکریہ جب سے ہوا ہے تو عطا

میرے رفاقت و راز کا نام و نشان مٹا دیا

کب تھا سکونِ دل مجھے کب تھا شعورِ بندگی

لیکن کسی کی یاد نے جینا مجھے سکھا دیا