Back to Collection

Bheek Sarkar Se Maangte Haiñ

Written by Anwar

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

الٰہی تا بہ ابد آستانہِ یار رہے

یہ آسرا ہے غریبوں کا برقرار رہے۔

بھیک سرکار سے مانگتے ہیں

بھیک سرکار سے مانگتے ہیں

ہے طریقہِ طلب عاجزانہ

آستانے کا صدقہِ عطا ہو حق سلامت رکھے آستانہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

بعد مدت کے تو تقدیر یہاں لائی ہے

خالی اس در سے پلٹنا بڑی رسوائی ہے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

غریب ہم کو خدا نے کیا تمہارے لیے

ہمارے واسطے تم کو کیا غریب نواز

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

غریب ہم کو خدا نے کیا تمہارے لیے

ہمارے واسطے تم کو کیا غریب نواز

بڑی امید سے حاضر ہوا ہوں چوکھٹ پر

کہ میں غریب ہوں، خواجہ کا در غریب نواز

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

یہ کہہ رہا ہے مقدر میرا میرے خواجہ

بگڑ گیا ہوں بنا لو مجھے غریب نواز

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

میں گر رہا ہوں سنبھالو مجھے غریب نواز

بڑھا کے ہاتھ اٹھا لو مجھے غریب نواز

غریب جان کے ہر اک نے مجھ کو ٹال دیا

تم اپنے در سے نہ ٹالو مجھے غریب نواز۔ خواجہ،

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

مجھے کچھ نہیں، مجھ کو تیری شرم ہے

تمہی سوچ لو کیا کہے گا زمانہ

سخی در سے خالی جو میں لوٹ جاؤں

تو بدنام ہوگا تیرا آستانہ…

میں خود سوچتا ہوں بھلا کیا میں مانگوں

سمندر سے مانگوں میں شبنم کا قطرہ…

مجھے شرم آتی ہے خود مانگتے کو

کہاں میری جھولی، کہاں یہ خزانہ

میری بے کسی پر ذرا رحم کھانا

نہ دو کچھ بھی لیکن نہ در سے ہٹانا

مقدر بدلنے کو ہم بے کسوں کے

سلامت رہے بس تیرا آستانہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

تیرا نامِ پاک معین الدین

تو رسولِ پاک کی آل ہے

تیری شان خواجہِ خواجگان

تجھے بے کسوں کا خیال ہے

میں گدائے خواجہِ چشت ہوں…

کوئی کسی کا، کوئی کسی کا

میں گدائے خواجہِ چشت ہوں

مجھے اس گدائی پہ ناز ہے

مجھے ناز خواجہ پہ کیوں نہ ہو

میرا خواجہ بندہ نواز ہے

میرا بگڑا بخت سنوار دے

میرے خواجہ مجھ کو نواز لے

تیری اک نظر کی یہ بات ہے

میری زندگی کا سوال ہے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

نہ وہ بتکدے کے قابل

نہ حرم کے کام کے ہیں

جو بڑھے ہوئے ہیں سجدے

تیرے سنگِ آستاں سے

ہر کس وسیلہ دارد و ما بےوسیلہ ای

مرا وسیلہ نیست بجز آستانِ تو

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

سخی اور بھی ہیں لیکن یہ جہاں چھان مارا

ہوا منگتوں کا آخر تیرے در پہ ہی گزارا

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

چراغِ چشت، شہِ اولیا غریب نواز

میرے حضور میرے پیشوا غریب نواز

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

لگا کے آیا ہوں میں آس یا غریب نواز

بھرے گا کون یہ دامن میرا غریب نواز

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

یہ دیوانوں کے سجدے سنگِ در پر رنگ لائے ہیں

کہ بن کر رہ گیا ہے ایک تصویرِ جنوں وہ بھی

آج گھبرا کے دیوانے کہنے لگے

چھوڑ کر تیرا دامن کدھر جائیں گے

میرے خواجہ پیا مجھ کو چھوڑا گیا

تیری چوکھٹ سے ٹکرا کے مر جائیں گے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

اب کس کے در پر جائیں ہم

کس کو سنائیں حالِ غم

برسوں سے کرتے آئے ہیں

ہم تیرے در کی چاکری

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

حسرت ہے یہ آئندہ اگر دے نہ

تو اب کچھ دے

مانگوں نہ… میں مانگوں نہ… مانگوں نہ…

سائل تو ہزاروں ہیں، ہزاروں میں میں یکتا ہوں

مانگوں نہ دوبارہ،

اتنا تو مجھے دیدے۔

خواہش نہ ہو پھر لینے کی

اتنا تو مجھے دیدے۔

کب تک میں کہے جاؤں

دیدے تو مجھے دیدے۔

اے دستِ طلب دینا ہے تو

جلدی سے مجھے دیدے۔

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

حسرت ہے یہ آئندہ گر دے نہ

تو اب کچھ دے۔

اسبابِ خلاء دے کر

سامانِ طلب کچھ دے۔

عقبٰی کا نہیں وعدہ

دینا ہے تو اب کچھ دے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

آئے تیرے حضور میں رحمت کی بھیک مانگنے

رحمت کی بھیک مانگنے

رحمت کی بھیک مانگنے…

آئے تیرے حضور میں رحمت کی بھیک مانگنے

ٹوٹے دلوں کا آسرا تیرے سوا کوئی نہیں

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

رہے آستاں سلامت، رہے برقرار شاہی

کہ تمہارے ناز پر ہے، یہ ہماری کجکلاہی

پروردگار و شافعِ محشر کا واسطہ

عثمان جانشینِ پیمبر کا واسطہ

مشکل کشا و فاتحِ خیبر کا واسطہ

اکبر کی جاں نواز اذانوں کا واسطہ

عباس کے کٹے ہوئے شانوں کا واسطہ

کلثوم کے کھلے ہوئے بالوں کا واسطہ

کلثوم کے کھلے ہوئے بالوں کا واسطہ

شبیر کے جلے ہوئے خیمے کا واسطہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

صاحب سخی ہیں، خود بھی سخی

ہیں پسر سخی

واللہ! فاطمہ کا ہے سب گھر کا گھر سخی

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

جب تم نہ سنو گے تو میری کون سنے گا

جب تم نہ کرو گے تو کرم کون کرے گا

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

سنتے ہیں تیرے در پر بدلتی ہیں قسمتیں

آئے ہیں ہم بھی اپنا مقدر لیے ہوئے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

در در خراب و خستہ پھرا لے کے التجا

لیکن چلا نہ منزلِ مقصود کا پتا

آخر تیرے کرم نے پکارا ادھر تو آ

حاضر ہوا ادھر میں یہ دیتا ہوا صدا، خواجہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

نگاہِ لطف سے قسمت سنوار دو میری

یہ بگڑی اور کسی کے نہیں بنانے کی

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

دیدے کچھ آج سخی، گنجِ شکر کا صدقہ

خالی اس در سے پلٹنا بڑی رسوائی ہے

کھڑا ہوں روضہِ اقدس کی جالیاں پکڑے

نہ اب دعا کی ضرورت ہے، نہ سوالوں کی

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

یا آج سر نہیں، یا آستانہِ یار نہیں

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

کرم کر دو، کرم کر دو سخی خواجہ معین الدین

عنایت کی نظر کر دو سخی خواجہ معین الدین۔

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

تو سخی ابنِ سخی اے خواجہِ اجمیر ہے

پھر تیرے دربار میں میرے لیے کیا دیر ہے۔

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

تیرے صدقے تیری خیرات کے واری جاؤں

تیرے صدقے، صدقے، صدقے…

تیرے صدقے، صدقے، صدقے…

تیرے صدقے تیری خیرات کے واری جاؤں

جھولی ہر ایک کی بے مانگے بھری دیکھی ہے

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

تو وہ منبعِ عطا ہے

کہ پکار اٹھا زمانہ

وہ کرم نوازیاں کیں

کہ کرم کا کیا ٹھکانا

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

آج اجمیر والے خواجہ ہند الولی

کملی والے کا صدقہ دیے جا رہے ہیں

کملی والے کا صدقہ دیے جا رہے ہیں…

خواجہ عثمان کا ہے یہ لطف و کرم

کہ غریبوں کے دامن بھرے جا رہے ہیں…

آپ کے در کی مجھ کو گدائی ملی

خواجہ تم جو ملے، بادشاہی ملی

نائبِ مصطفیٰ آپ کی شان ہے

دونوں عالم کا صدقہ دیے جا رہے ہیں

آستانے کا صدقہ عطا ہو… عطا ہو…

بھیک سرکار سے مانگتے ہیں

ہے طریقہِ طلب عاجزانہ،

آستانے کا صدقہ عطا ہو

حق سلامت رکھے آستانہ

بے نیازِ طلب آج کر دو

جھولیاں ہم گداؤں کی بھر دو

در سے خالی اگر پھر گئے ہم

کیا کہے گا بھلا پھر زمانہ

میں ہوں انور میری لاج رکھیے

میں ہوں کھوٹا مجھے نہ پرکھیے

صدقہ آلِ محمد کا مجھ پر

ہو کرم کی نظر جاویدانہ

بھیک سرکار سے مانگتے ہیں

ہے طریقہِ طلب عاجزانہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو

حق سلامت رکھے آستانہ

آستانے کا صدقہ عطا ہو او…