Daagh e Furqat e Taibah
Written by Huzoor Taajush Shariah Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaداغِ فرقتِ طیبہ، قلبِ مضمحل جاتا
کاش گنبدِ خضرا دیکھنے کو مل جاتا
دم میرا نکل جاتا ان کے آستانے پر
ان کے آستانے کی خاک میں میں مل جاتا
میرے دل سے دھل جاتا داغِ فرقتِ طیبہ
طیبہ میں فنا ہو کر طیبہ ہی میں مل جاتا
موت لے کے آ جاتی زندگی مدینے میں
موت سے گلے مل کر زندگی میں مل جاتا
خلد زارِ طیبہ کا اس طرح سفر ہوتا
پچھلے پیچھے سر جاتا آگے آگے دل جاتا
دل پہ جب کرن پڑتی ان کے سبز گنبد کی
اس کی سبز رنگت سے باغ بن کے کھل جاتا
فرقتِ مدینہ نے وہ دیے مجھے صدمے
کوہ پر اگر پڑتے کوہ بھی تو ہل جاتا
دل میرا بچھا ہوتا ان کی رہ گزاروں میں
ان کے نقشِ پا سے یوں مل کے مستقل جاتا
دل پہ وہ قدم رکھتے نقشِ پا یہ دل بنتا
یا تو خاکِ پا بن کر پا سے متصل جاتا
وہ خرام فرماتے میرے دیدہ و دل پر
دیدہ میں فدا کرتا صدقے میرا دل جاتا
چشمِ تر وہاں بہتی دل کا مدعا کہتی
آہ با ادب رہتی، منہ میرا سل جاتا
در پہ دل جھکا ہوتا اذن پا کے پھر بڑھتا
ہر گناہ یاد آتا دل خجل خجل جاتا
میرے دل میں بس جاتا جلوہ زارِ طیبہ کا
داغِ فرقتِ طیبہ پھول بن کے کھل جاتا
ان کے در پہ اختر کی حسرتیں ہوئیں پوری
سائلِ درِ اقدس کیسے منفعل جاتا