Back to Collection

Dar e Jaanañ Pe Fidaa-ee Ko Ajal Aa-ee Ho

Written by Huzoor Taajush Shariah Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

درِ جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

زندگی آ کے جنازے پہ تماشائی ہو

تیری صورت جو تصور میں اتر آئی ہو

پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو

نیک ساعت سے اجل عیشِ ابد لائی ہو

درِ جاناں پہ کوئی محوِ جبیں سائی ہو

سنگِ در پر تیرے یوں ناصیہ فرسائی ہو

خود کو بھولا ہوا جانا تیرا شیدائی ہو

خود بخود خلد وہاں کھنچ کے چلی آئی ہو

دشتِ طیبہ میں جہاں بادیہ پیمائی ہو

موسمِ مے ہو وہ گیسو کی گھٹا چھائی ہو

چشمِ مے گوں سے پیئیں جلسۂ صہبائی ہو

چاندنی رات میں پھر مئے کا وہ اک دور چلے

بزمِ افلاک کو بھی حسرتِ مئے آئی ہو

ان کے دیوانے کھلی بات کہاں کرتے ہیں

بات سمجھے وہی جو صاحبِ دانائی ہو

مہرِ خاور پہ جمیں نہیں جمتی نظریں

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

دشتِ طیبہ میں چلوں چل کے گروں گر کے چلوں

ناتوانی میری صد رشکِ توانائی ہو

گل ہو جب اخترِ خستہ کا چراغِ ہستی

اس کی آنکھوں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو