Back to Collection

Dayar E Ishq Mein Apna Maqaam Paida Kar

Written by Allama Iqbal

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

تیرا جوہر ہے نوری، پاک ہے تو

فروغِ دیدۂ افلاک ہے تو

تیرے صیدِ زبوں، افریشتہ و حور

کہ شاہینِ شاہِ لولاک (ص) ہے تو!

حکیمی، نا مسلمانی خودی کی

کلیمی، رمزِ پنہانی خودی کی

تجھے گر فقر و شاہی کا بتا دوں

غریبی میں نگہبانی خودی کی!

دیارِ عشق میں۔۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا، پیدا، پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں۔۔۔ عشق میں

دیارِ عشق میں۔۔۔ عشق میں

زندگانی ہے صدف، قطرہٴ نیساں ہے خودی

وہ صدف کیا، کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

دیارِ عشق میں۔۔۔ عشق میں

دیارِ عشق میں۔۔۔ عشق میں

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

خودی کی جلوتوں میں مصطفائی

خودی کی خلوتوں میں کبریائی

زمین و آسمان و عرش و کرسی

خودی کی زد میں ہے ساری خدائی!

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

تیرے سینے میں دم ہے، دل نہیں ہے

تیرا دم گرمئ محفل نہیں ہے

گزر جا عقل سے آگے، کہ یہ نور

چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

دیکھ۔۔ اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن

من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذبہ و شوق

تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دھن، جاتا ہے دھن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج

من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا، نہ تن

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

نہیں تیرا نشیمن، قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

خودی میں گم ہے خدائی، تلاش کر غافل!

یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ

حدیثِ دل کسی درویشِ بے گلیم سے پوچھ

خدا کرے تجھے تيرے مقام سے آگاہ

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے ناامیدی

مجھے بتا تو سہی، اور کافری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن

خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے!

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

گلا تو گھونٹ دیا، اہلِ مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

ہر شے مسافر، ہر چیز راہی،

کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی۔

کچھ قدر اپنی تونے نہ جانی،

یہ بے سوامی یہ کم نگاہی۔

پیرِ حرم کو دیکھا ہے میں نے،

کردارِ بے سوز گفتار واہی۔ !!

دیکھ۔۔ اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

پھرے طورِ سینا و باراں میں

تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم

مسلماں ہیں توحید میں گرم جوش

مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش

تمدن، تصوف، شریعت کلام

بتانِ عجم کے پجاری تمام

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

دیکھ۔۔

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

لبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب

مگر لذتِ شوق سے بے نصیب

بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا

لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا

وہ صوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد

محبت میں یکتا، حمیت میں فرد

عجم کے خیالات میں کھو گیا

یہ سالک، مقامات میں کھو گیا

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

مسلماں نہیں، راستہ، دیر ہے

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

شرابِ کہن پھر پلا ساقیا

وہی جام گردش میں لا ساقیا

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

میری خاک جگنو بنا کر اڑا

ہری شاخِ ملت ترے نام سے ہے

نفس اس بدن میں ترے دم سے ہے

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

دلِ مرتضیٰ سوزِ صدیق دے

جگر سے وہی تیر پھر پار کر

تمنا کو سینوں میں بیدار کر

تیرے آسمانوں کے تاروں کی خیر

زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے

مرا عشق، میری نظر بخش دے

اپنا مقام پیدا کر

اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ، نئے۔۔

نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو

سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر

مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

(سرگم)

مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

نہ مومن ہے، نہ مومن کی امیری

رہا صوفی گئی روشن ضمیری

خدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ

نہیں ممکن امیری بے فقیری

میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

خودی نہ بیچ۔۔

خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

دیارے عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارے عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر