Back to Collection

Diloñ Ko Yahee Zindagi Bakhshta He

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

دلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے

تیرا دردِ الفت ہی دل کی دوا ہے

گلستانِ دنیا کا کیا ذکر آقا

کہ ٹوٹی تیرا سدرہ پر بولتا ہے

مریضِ معاصی کو لے چل مدینہ

مدینہ ہی عِصیاں کا دارالشفا ہے

جو واصل ہے تم تک تو واصل ہے حق تک

جو تم سے پھرا ہے، وہ حق سے پھرا ہے

نماز اور روزے، زکات اور حج سب

ہیں مقبول سب، جب تمھاری ولا ہے

آل دی ایکشنز آف یور اینمیز ہیو ریچڈ اینیہلیشن،

'انٹو پارٹیکلز اسٹرون وی ٹرنڈ دیئر ڈیڈس'، از مائی کری ایٹرز ڈیوائن انسٹرکشن

محبت تمہاری محبت خدا کی

عداوت تمہاری خدا سے دغا ہے

وہ کیسی ہی جھیلے مشقت ادا میں

ادا کچھ نہیں ہے وہ سب کچھ قضا ہے

محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں

اگر یہ نہیں ہے تو ایماں ہوا ہے

کرے لاکھ دعویٰء ایمان دشمن

منافق کا دعویٰء ایماں دغا ہے

خدا پر بھی ایماں اسی کو ہے حاصل

جسے جانِ ایماں تجھ سے ولا ہے

خدا کے یہاں ہے سرفراز اتنا

تیری بارگاہ میں جو جتنا جھکا ہے

اغیثنا حبیب الہی اغیثنا

تباہی میں بیڑا ہمارا پھنسا ہے

یہ سچ ہے بد اعمالیوں ہی نے اپنی

ہمیں روز بد یہ دکھایا شھاہے

بہت نام لیوا ہوئے قتل و غارت

خبر کیا نہیں، تم سے کیا کچھ چھپا ہے

تصور میں بھی جو نہ تھے وہ مظالم

ہوئے اور ابھی تک، وہی سلسلہ ہے

نہ دیکھا تھا جو چشم گردوں نے اب تک

تیرے بندوں نے وہ ستم اب سہا ہے

چھینے مال و دولت ہوئے قتل و غارت

ہزاروں کا ناموس لوٹا گیا ہے

لاکھوں خاک کیے ٹھنڈے سفاکیوں سے

مگر ظالم اب تک بھی گرمارہا ہے

جو حق چاہتا ہے، یہ وہ چاہتے ہیں

جو یہ چاہتے ہیں، وہ حق چاہتا ہے

مگر مولیٰ اب تو سزا پا چکے ہم

کرم کیجیے اب یہی التجا ہے

نیکوکار بندے ہی کیا ہیں تمہارے

یہ بدکار بھی آپ ہی کا شہا ہے

نہ کیجے نظر اس کی بدکاریوں پر

کرم کیجیے جو شعار آپ کا ہے

جو پہلے تھے آقا، غلام آج ٹھہرے

غلام اپنے آقا کا آقا بنا ہے

زبانِ مقدس پہ حق بولتا ہے

It is Clear From, ‘And He Does Not Say Anything Of His Own Aspiration’،

انھیں کی رسائی ہے ذاتِ خدا تک

سوا ان کے کوئی بھی اس تک رسا ہے؟

دو عالم کو کردوں میں اس سر پہ صدقے

نثارِ مدینہ جو سر ہو چکا ہو

اگر چہ ہے مکہ کی عظمت مسلّم

مگر میرا دل طیبہ ہی پر فدا ہے

ہے معراجِ قسمت حضوری یہاں کی

ہمیں آپ کا روضہ عرشِ علا ہے

نکو کار ہے آپ کا، بد ہے کس کا

وہ بھی آپ کا ہے، جو بد ہے برا ہے

کہاں تک سہیں ہم مخالف کے طعنے

خبر لیجیے وقتِ صبر آزما ہے

مقدر کے تم ہو، مقدر تمہارا

جو مرضی تمہاری ہے، وہ قدر و قضا ہے

خدا کی جو مرضی وہ مرضی تمہاری

جو مرضی تمہاری خدا کی رضا ہے

ہے اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ اس کا

تیرے ہاتھ میں ہاتھ جس نے دیا ہے

ؔانا قاسموں سے ہے روشن جہاں میں

جسے جو ملا وہ تمہارا دیا ہے

حبیبِ خدا ہے یہاں جلوہ فرما

یہ گنبد نہیں، برجِ عرشِ خدا ہے

بتقدیرِ قادر مقدّر وہ پایا

کہ مرضی ہی، گویا قدر اور قضا ہے

یہاں بھیک لینے نہ کیوں آئے دنیا

شہنشاہِ عالم کی دولت سرا ہے

خدا ہی کی قدر اس نے ہرگز نہ جانی

ترے رتبہ میں جس کو چوں و چرا ہے

نہ اہلِ نظر کا بنے سجدہ گاہ کیوں

جہاں نقشِ پاے حبیبِ خدا ہے

اسی در کا محتاج ہے سارا عالم

اسی در سے پلتا، پلے گا، پلا ہے

یہ کون و مکاں، یہ زمین و زماں سب

بنے تیری خاطر تو وجہِ بنا ہے

بنایا تجھے ایسا خالق نے تیرے

کہ ذاتِ خدا کا تو ہی آئینہ ہے

یہ چاہت ہے محبوب تیری خدا کو

جو تو چاہے وہ بھی وہی چاہتا ہے

بنایا تمہیں اپنا مظہر خدا نے

جہانوں کو مظہر تمہارا کیا ہے

کچھ ایسا سنوارا ہے تجھ کو خدا نے

کہ تو ہی خدائی کا دولہا بنا ہے

تمہارا ہی رنگ اور تمہاری ہی بو تو

ہے ان پھولوں میں ورنہ پھر اور کیا ہے

چمن ہونا سیراب و شاداب ہونا

یہ پھل پھول لگنا تمہاری عطا ہے

اسی دم سے آباد سارے جہاں ہیں

اسی دم سے سارا وجود و بنا ہے

ہے زیر نگیں تیرے ملکِ الٰہی

تو ہی شاہ والا قصرِ دنا ہے

تو وہ تاجور ہے کہ تاجِ رفعنا

تیرے فرقِ اقدس پہ حق نے دھرا ہے

ماہ و خور چمکتے دمکتے ہی نہ یوں

یہ تیری چمک ہے یہ تیری ضیا ہے

ستاروں کی آنکھوں میں ہے نور کس کا

تمہاری چمک ہے، تمہاری ضیا ہے