Back to Collection
Gar Talab Sey Kuch Masewa Chahey
Written by Janaab Bismil Aaghai
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaگر طلب سے کچھ ماسوا چاہے
ان کا دامن نہیں چھوڑنا چاہے
دل کو دیدِ رخِ مصطفیٰ چاہے
آئنے کے لیے آئینہ چاہے
ہاتھ میں دامنِ مصطفیٰ آ گیا
ایک گنہگار کو اور کیا چاہے
لے چلو اب مدینے کو جگہ کرو
مجھ کو طیبہ کی آب و ہوا چاہے
گر طلب سے بھی کچھ ماسوا چاہے
ان کا دامن نہیں چھوڑنا چاہے
تم ملے تو دو عالم کی دولت ملی
اس سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہے
نعمتیں دونوں عالم کی دے کر مجھے
پوچھتے ہیں بتا اور کیا چاہے
سامنے سرورِ دو جہاں آ گئے
حشر میں اور بسمل کو کیا چاہے
گر طلب سے بھی کچھ ماسوا چاہے
ان کا دامن نہیں چھوڑنا چاہے