Gardishon Ke Hain Maare Hue Na
Written by Nasir
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaگردشوں کے ہیں مارے ہوئے نہ
گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نہ
گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نہ دشمنوں کے ستائے ہوئے ہیں
جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر، دوستوں کے لگائے ہوئے ہیں
عقل کو روگ مار دیتے ہیں
عشق کو سوگ مار دیتے ہیں
آدمی خود بہ خود نہیں مرتا
دوسرے لوگ مار دیتے ہیں
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں
ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
تم تو غیروں کی بات کرتے ہو
ہم نے تو اپنے بھی آزمائے ہیں
کاسہِ دید لے کے دنیا میں
میں نے دیدار کی گدائی کی
میرے جتنے بھی یار تھے سب نے
حسبِ توفیق بے وفائی کی
جب سے دیکھا تیرا قد و قامت
جب سے دیکھا تیرا قد و قامت
تمہیں دیکھا تو زاہد نے کہا کہ ایمان کی ہے
کہ انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا
اے مستِ ناز دیکھنے والوں کے دل تو دیکھ
پامال ہو گئے تیرا دل دیکھ کر
گرایا ہاتھ سے شیشہ صراحی توڑ دی میں نے
جب سے دیکھا تیرا قد و قامت
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے پہ
جب سے دیکھا تیرا قد و قامت
ان آنکھوں سے قیامت کی نشانی کون دیکھے گا
بتِ کافر تیری اٹھتی جوانی کون دیکھے گا
جب سے دیکھا تیرا قد و قامت دل پہ ٹوٹی ہوئی ہے قیامت
ہر بلا سے رہے تو سلامت دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں
اور دے مجھ کو دے اور ساقی
اور دے مجھ کو دے اور ساقی
قریب اور بھی آؤ کہ شوقِ دید مٹے
شراب اور پلاؤ کہ کچھ نشہ اترے
اپنے دلِ صد چاک کو سی سکتا ہوں
محرومِ کرم ہو کے بھی جی سکتا ہوں
موقوف نہیں جام پہ رندی میری
ساقی تیرے غصے کو بھی پی سکتا ہوں
اور دے اور دے مجھ کو ساقی ہوش رہتا ہے تھوڑا سا باقی
آج تلخی بھی ہے انتہا کی آج وہ بھی پرائے ہوئے ہیں
کل تھے آباد پہلو میں میرے اب ہے غیروں کی محفل میں ڈیرے
میری محفل میں کر کے اندھیرے اپنی محفل سجائے ہوئے ہیں
اپنے ہاتھوں سے خنجر چلا کر کتنا معصوم چہرہ بنا کر
اپنے کاندھوں پہ اب میرے قاتل میری میت اٹھائے ہوئے ہیں
مہوشوں کو وفا سے کیا مطلب ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
ان کی معصوم نظروں نے ’ناصر‘ لوگ پاگل بنائے ہوئے ہیں