Back to Collection

Gunahgaaroñ Ki Bakhshish Karaane Aa-e Haiñ

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

ہم اپنی حسرتِ دل کو مٹانے آئے ہیں

ہم اپنی دل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں

دلِ حزیں کو تسلی دلانے آئے ہیں

غمِ فراق کو دل سے مٹانے آئے ہیں

کریم ہیں وہ نگاہِ کرم سے دیکھیں گے

ہے داغ داغ، دل اپنا دکھانے آئے ہیں

غم و الم یہ مٹا دیں گے، شاد کر دیں گے

ہم اپنے غم کا قضیہ چکانے آئے ہیں

حضور بحرِ خدا داستانِ غم سن لیں

غمِ فراق کا قصہ سنانے آئے ہیں

نگاہِ لطف و کرم ہوگی اور پھر ہوگی

کہ زخمِ دل پہ یہ مرہم لگانے آئے ہیں

فقیر آپ کے در کے ہیں، ہم کہاں جائیں

تمھارے کوچے میں دھونی رمانے آئے ہیں

مدینہ ہم سے فقیر آ کے لوٹ جائیں گے

درِ حضور پہ بستر جمانے آئے ہیں

خدا نے غیب دیا ہے، انھیں ہے سب روشن

جو خطرے دل ہی میں، چھپنے چھپانے آئے ہیں

کھلے گی میرے بھی دل کی کلی کہ جانِ جناں

چمن میں پھولِ کرم کے کھلانے آئے ہیں

کتابِ حضرتِ موسیٰ میں وصف ہیں ان کے

کتابِ عیسیٰ میں ان کے فسانے آئے ہیں

انھیں کی نعت کے نغمے زبور سے سن لو

زبانِ قرآن پہ ان کے ترانے آئے ہیں

دبا نہیں، وہ فلک سے بلند و بالا ہے

تحتِ زمین جسے سرور دبانے آئے ہیں

نصیب جاگ اٹھا اس کا، چین سے सोया

وہ جس کو قبر میں سرور سلانے آئے ہیں

عجب کرم ہے کہ خود مجرموں کے حامی

گنہگاروں کی بخشش کرانے آئے ہیں

سبھی رسل نے کہا ’اذھبو الی غیر ی‘

’انا لھا‘ کا یہ مژدہ سنانے آئے ہیں

زبانِ انبیا پر آج نفسی، نفسی ہے

مگر حضور شفاعت کی ٹھانے آئے ہیں

کسی غریب کے پلّے پہ وقتِ وزنِ عمل

بھرم کرم سے یہ اس کا بنانے آئے ہیں

وہ پرچہ جس میں لکھا تھا درود اس نے کبھی

یہ اس سے نیکیاں اس کی بڑھانے آئے ہیں

خدا سے کرتے ہوئے عرض ربِّ سلِّمْہو

صراط پر یہ کسی کو چلانے آئے ہیں

زبان جو دیکھے ہے سوکھی ہوئی تو بحرِ کرم

کسی کو حوض پہ شربت پلانے آئے ہیں

ہوا ہے حکم کسی کو کہ نار میں جائے

یہ سن کے دوڑ کے اس کو چھڑانے آئے ہیں

الٰہی! دور ہوں نجدی حجاز سے جلدی

حجازیوں کو یہ موذی ستانے آئے ہیں

نصیب تیرا چمک اٹھتا دیکھ تو نوری

عرب کے چاند لحد کے سرہانے آئے ہیں