Back to Collection

Haideri Rang Me Rang Jao Mere Yaar

Written by Tafseer Raza

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

من کنت مولا

فہذا علی مولا

علی علی مولا، یا علی مولا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار ×2

بولو نا، بولو نا، بولو نا۔۔۔

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار ×2

وہ علی شیرِ خدا

جن کا بیاں باغِ ہادی

جن کی نگاہ نورِ خدا

جن کی زباں صدق بیاں

جن کی ہر اک طرزِ ادا

سنتِ سرکار

وہ ہیں اک نعمتِ غفار

عطاِ شاہِ ابرار

شجاعت کے علمبردار

وہ ہیں باغِ ولایت کے طرفدار

علی سے ہے ہمیں پیار

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

ان کی کعبے میں ولادت

ہوئی مسجد میں شہادت

یہ ہے کتنی بڑی عظمت

کہ ہر اک دل میں بسی ان کی محبت

یہ ہے فضلِ شاہِ کونین

ان کی خدمات سے ہے

علم کے باغات میں

ایمان کی سوغات میں

اسلام کے ایوان میں

دامان میں

ایک فصلِ بہار

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

وہ علی میرے علی، پیارے علی،

سچے علی، اچھے علی،

جن کو میرے آقا کی بیٹی ہے ملی

جن کو جہاں کہنے لگا حیدرِ کرار

علم کے باب ہیں،

اصحاب میں شاداب ہیں

وہ تحفۂ سرکار ہیں،

دنیاِ محبت میں ضیابار ہیں

اسلامی چمن کی ہیں بہار

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

وہ ہوئے فتحِ خیبر

میرے سرکار کے دلبر

پدرِ سبطِ پیمبر

ہوئے سب ولیوں کے سرور

وہ ہوئے گلشنِ اصحاب کے گلزار

ان کی بے مثل شجاعت پہ

ہے صدیق کو بھی ناز

صحابہ میں ہوئے کتنے وہ ممتاز

میری ٹوٹی زبان سے نہیں

ہو سکتا یہ اظہار

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

جب لیا نامِ علی

مشکلیں سب دور ہوئیں

دل کی کلی کھلنے لگی

حالتِ مضطر میں ملا

چین و قرار۔۔۔

ہر قدم پہ ہے مجھے ان کا سہارا

میرا ہر کام ہے بنتا

انہی کے دم سے مہکتا ہے میرا

آج یہ کردار۔۔۔

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

قلب میں جذبۂ ایمان لیے

مشعلِ صدیق لیے

جراتِ فاروق لیے

الفتِ عثمان لیے

مولا نے

حکمِ سرکار سے

دروازۂ خیبر کو اکھاڑا

کہیں مرحب کے تکبر کو بھی

مٹی میں ملایا

وہ بنے دین کی تلوار

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بحرِ گستاخ

وہ تلوارِ خدا

خنجرِ محبوبِ خدا

ان کے علی نام سے لرزاں ہیں

ابھی تک سبھی ایوانِ عدو

کل بھی تھا نامِ علی

آج بھی ہے نامِ علی

حشر تک گونجے گی

اس نامِ علی کی جہاں میں

ہر سو پکار

وہ کہاں شیرِ خدا

جانِ وفا

نورِ نبی

شانِ ولی

بحرِ شقی

قہرِ جلی

اور کہاں ادنیٰ قلم ہے

میرا تفسیر رضا

مدحتِ مولا علی کیسے کروں

کیا کیا لکھوں

شانِ علی

ہے میری حد سے بھی فزوں

بس یوں ہی میں ذکرِ علی کرتا رہوں

لیل و نہار۔۔۔

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار

بولو نا، بولو نا، بولو نا

حیدری رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار