Humeñ Ab Dekhna He Hawsla
Written by Huzoor Taajush Shariah Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaوہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلفِ معنبر کا
ہمیں اب دیکھنا ہے حوصلہ خورشیدِ محشر کا
جو بے پردہ نظر آجاۓ جلوہ روئے انور کا
ذرا سا منہ نکل آۓ ابھی خورشیدِ خاور کا
شاہِ کوثر ترحم تشنہء دیدار جاتا ہے
نظر کا جام دے پردہ رخِ پرنور سے سر کا
ادب گاہست زیرِ آسماں عرش سے نازک تر
یہاں آتے ہیں یوں عرشی کہ آوازہ نہیں پر کا
ہماری سمت وہ مہرِ مدینہ مہرباں آیا
ابھی کھل جائیگا سب حوصلہ خورشیدِ محشر کا
چمک سکتا ہے تو چمکے مقابل ان کی طلعت کے
ہمیں بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشیدِ محشر کا
رواں ہو سلسبیلِ عشقِ سرور میرے سینے میں
نہ ہو پھر نار کا کچھ غم نہ ڈر خورشیدِ محشر کا
تیرا ذرہ وہ ہے جس نے کھلائے انگنت تارے
تیرا قطرہ وہ ہے جس سے ملا دھارہ سمندر کا
بتانا تھا کہ نیچر ان کے زیرِ پا مسخر ہے
بنا پتھر میں یوں نقشِ کفِ پا میرے سرور کا
وہ ظاہر کے بھی حاکم ہیں وہ باطن کے بھی سلطان ہیں
نرالا طورِ سلطانی ہے شاہوں کے سکندر کا
یہ سن لیں سایہِ جسمِ پیمبر ڈھونڈنے والے
بشر کی شکل میں دیگر ہے وہ پیکر پیمبر کا
وہ ظلِ ذاتِ رحماں ہیں نبوت کے مہِ تاباں
نہ ظل کا ظل کہیں دیکھا نہ سایہ ماہ و اختر کا