Back to Collection

Is Taraf Bhi Karam Aye Rashk E Masiha Karna

Written by Syed Bedam Shah Warsi

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

اس طرف بھی کرم اے رشکِ مسیحا کرنا

کہ تمہیں آتا ہے بیمار کا اچھا کرنا

بے خودِ جلوہ سے کہتا ہے یہ جلوہ ان کا

لطفِ نظارہ اٹھا ہوش سنبھالا کرنا

اے جنوں کیوں لئے جاتا ہے بیاباں میں مجھے

جب تجھے آتا ہے گھر کو مرے صحرا کرنا

جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں

پھر سمجھ میں نہیں آتا ترا پردہ کرنا

یہی دو کام ہیں ناکامِ محبت کے لئے

کبھی ان کا کبھی تقدیر کا شکوہ کرنا

ہم بھی دیکھیں ترے آئینۂ رخ کو لیکن

شاق ہے گرِد نظر سے اسے دھندلا کرنا

کوئی بھی جاء ہو حرم ہو کہ صنم خانہ ہو

ہم کو نقشِ قدمِ یار پہ سجدہ کرنا

دکھ لے جا کے وہ دریا پہ تماشائے حباب

جس کو منظور ہو نظارۂ دنیا کرنا

پردۂ ہستئ موہوم ہٹا لو پہلے

پھر جہاں چاہو وہاں یار کو دیکھا کرنا

شکوہ اور شکوۂ محبوب، الٰہی توبہ

کفر ہے مذہبِ عشاق میں شکوہ کرنا

ایک تم ہو کہ تمہیں بات کا کچھ پاس نہیں

اور اک ہم کہ ہمیں منہ سے جو کہنا کرنا

وہ مرے اشک کو دامن پہ جگہ دیتے ہیں

یعنی منظور ہے اس قطرے کو دریا کرنا

ایسی آنکھوں کے تصدق مری آنکھیں بیدمؔ

کہ جنہیں آتا ہے اغیار کو اپنا کرنا

اس طرف بھی کرم اے رشکِ مسیحا کرنا

کہ تمہیں آتا ہے بیمار کا اچھا کرنا