Ja Dil Tenu De Chchadeya
Written by Unknown
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaجا دل تینوں دے چھڈیا
کر رہی ہے در حقیقت
کام ساقی کی نظر
میکدے میں گردشِ ساغر
پرائے نام ہیں
پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ
مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے
سلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی
مجھے میکشی کی ضرورت نہیں ہے
پلا نہیں جو گریزاں ہے چند پیمانے
نگاہِ یار سلامت تو ہزار میخانے
کھڑکتے جام کا محتاج میں نہیں ساقی
تیری نگاہ سلامت مجھے کمی کیا ہے
آنکھیں ساقی کی سلامت میرے دشمن ترسیں
دوہرے میخانے ہیں میری نیت بھرنے کے لیے
سرور چیز کی مقدار پر نہیں موقوف
شراب کم ہے تو ساقی نظر ملا کے پلا
جام پر جام پینے سے کیا فائدہ
رات گزری تو ساری اتر جائے گی
تیری نظروں سے پی ہے خدا کی قسم
عمر ساری نشے میں گزر جائے گی
دل اس کا نمازی بن جائے
آنکھ اس کی گلابی ہو جائے
تو جسے محبت سے دیکھ لے
ساقی وہ شرابی ہو جائے
یہ ترکِ تعلق کا کیا بن گیا ہے
تمہارے سوا کوئی اپنا نہیں ہا
اگر تم کہو تو میں خود کو بھلا دوں
تمہیں بھول جانے کی طاقت نہیں ہے
روز کہتا ہوں بھول جاؤں تمہیں
روز یہ بات بھول جاتا ہوں
اک بار عقل نے تمہیں چاہا تھا بھلانا
سو بار جنون نے تیری تصویر دکھا دی
تجھ کو بھولوں کوشش کر کے دیکھوں گا
ورنہ دریا الٹا بہنا مشکل ہے
ہر اک موڑ پر اک نئی مات کھائی
رہی دل کی دل میں زباں تک نہ آئی
کیے ہیں کچھ ایسے کرم دوستوں نے
کہ اب دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے
عقل کو روگ مار دیتے ہیں
عشق کو سوگ مار دیتے ہیں
آدمی خود بہ خود نہیں مرتا
دوسرے لوگ مار دیتے ہیں
ہمیشہ میرے سامنے سے گزرنا
نگاہیں چرا کر مجھے دیکھ لینا
میری جان تم مجھ کو اتنا بتا دو
یہ کیا چیز ہے گر محبت نہیں ہے
ہزاروں تمنائیں ہوتی ہیں دل میں
ہماری تو بس اک تمنا یہی ہے
مجھے ایک دفعہ اپنا کہہ کے تو پا دو
اس کے سوا کوئی حسرت نہیں ہے
جا دل تینوں دے چھڈیا