Back to Collection

Jab Tu Paida Hua Kitna Majboor Tha

Written by Anas Younus

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

جب تُو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا

یہ جہاں تیری سوچوں سے بھی دور تھا

ہاتھ پاؤں بھی تب تیرے اپنے نہ تھے

تیری آنکھوں میں دنیا کے سپنے نہ تھے

تجھ کو آتا تھا جو صرف رونا ہی تھا

دودھ پی کے تیرا کام سونا ہی تھا

تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری

تجھ کو دل میں بسایا تھا ماں نے تیری

ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا

وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا

دھیرے دھیرے تُو کڑیل جوان ہو گیا

تجھ پہ سارا جہاں مہربان ہو گیا

زورِ بازو پہ تُو بات کرنے لگا

خود ہی سجنے لگا خود سنورنے لگا

ایک دن ایک حسینہ تجھے بھا گئی

بن کے دلہن وہ پھر تیرے گھر آ گئی

فرض اپنے سے تُو دور ہونے لگا

بیج نفرت کا خود ہی تُو بونے لگا

پھر تُو ماں باپ کو بھی بھلانے لگا

تیر باتوں کے پھر تُو چلانے لگا

بات بے بات ان سے تُو لڑنے لگا

قاعدہ ایک نیا پھر تُو پڑھنے لگا

یاد کر تجھ سے ماں نے کہا ایک دن

اب ہمارا گزارا نہیں تیرے بن

سن کے یہ بات تُو طیش میں آ گیا

تیرا غصہ تیری عقل کو کھا گیا

جوش میں آ کے تُونے یہ ماں سے کہا

میں تھا خاموش سب دیکھتا ہی رہا

آج کہتا ہوں پیچھا میرا چھوڑ دو

جو ہے رشتہ میرا تم سے وہ توڑ دو

جاؤ جا کے کہیں کام دھندا کرو

لوگ مرتے ہیں تم بھی کہیں جا مرو

بیٹھ کر آہہیں بھرتے تھے وہ رات بھر

ان کی آہوں کا تجھ پہ ہوا نہ اثر

ایک دن باپ تیرا چلا روٹھ کر

کیسی بکھری تھی پھر تیری ماں ٹوٹ کر

پیچھے وہ بے بس اجل کو بلاتی رہی

زندگی اس کو ہر دن ستاتی رہی

ایک دن موت کو بھی ترس آ گیا

اس کا رونا بھی تقدیر کو بھا گیا

اشک آنکھوں میں تھے وہ روانہ ہوئی

موت کا ایک ہچکی بہانہ ہوئی

ایک سکون اس کے چہرے پہ چھانے لگا

پھر تُو میت کو اس کی سجانے لگا

مدتیں ہو گئیں آج بوڑھا ہے تُو

جو پڑا ٹوٹ کھٹیا پہ وہ کوڑا ہے تُو

تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں

نفرتیں ہیں محبت وہ کرتے نہیں

درد میں تُو پکارے کہ اوہ میری ماں

تیرے ہی دم سے روشن تھے دونوں جہاں

وقت چلتا رہے وقت رکتا نہیں

ٹوٹ جاتا ہے وہ جو کہ جھکتا نہیں

بن کے عبرت کا تُو اب نشاں رہ گیا

دھندلا زور تیرا کہاں رہ گیا

تُو جو احکامِ ربی بھلاتا رہا

اپنے ماں باپ کو تُو ستاتا رہا

کاٹ لے اب وہی تُونے بویا تھا جو

تجھ کو کیسے ملے تُونے کھویا تھا جو

موت مانگے تجھے موت آتی نہیں

ماں کی صورت نگاہوں سے جاتی نہیں

تُو جو کھانسے تو اولاد ڈانٹے تجھے

تُو ہے ناسور سکھ کون بانٹے تجھے

موت آئے گی تجھ کو مگر وقت پر

بن ہی جائے گی تیری قبر وقت پر

قدر ماں باپ کی ہر کوئی جان لے

اپنی جنت کو دنیا میں پہچان لے

اور لیتا رہے وہ بڑوں کی دعا

اس کے دونوں جہاں اس کا حامی خدا

یاد رکھنا انس کی اس بات کو

بھول جانا نہ رحمت کی برسات کو