Back to Collection

Kabhi Rehte Woh Is Ghar Me

Written by Huzoor Taajush Shariah Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Azhari

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدہ تر میں

یہ کیسی موجیں آئی ہیں تمنا کے سمندر میں

ہجوم شوق کیسا انتظار کوئے دلبر میں

دل شیدا سماتا کیوں نہیں اب پہلو و بر میں

تجسس کروٹیں کیوں لے رہا ہے قلب مضطر میں

مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں

یہ بحثیں ہو رہی ہیں میرے دل میں پہلو و بر میں

کہ دیکھیں کون پہنچے آگے آگے شہر دلبر میں

مدینے تک پہنچ جاتا کہاں طاقت تھی یہ پر میں

یہ سرور کا کرم ہے، ہے جو بلبل باغ سرور میں

مدینے کی وہ مرگ جاں فزا گر ہے مقدر میں

امر ہو جائیں گے مر کر دیار روح پرور میں

جو تو اے طائرِ جاں کام لیتا کچھ بھی ہمت سے

نظر بن کر پہنچ جاتے تجلی گاہِ سرور میں

اجالے میں گُمے ہوتے تجلی گاہِ سرور کے

نظر سے چھپ کے ہم رہتے تجلی گاہِ سرور میں

نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستمگر نے

ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قیدِ ستمگر میں

ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو!

سنو! ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستمگر میں

گذرگاہوں میں اُن کی میں بچھاتا دیدہ و دل کو

قدم سے نقش بنتے میرے دل میں دیدۂ تر میں

بناتے جلوہ گاہِ ناز میرے دیدہ و دل کو

کبھی رہتے وہ اِس گھر میں، کبھی رہتے وہ اُس گھر میں

مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنہ والے

مدینے میں خود اختر ہے، مدینہ چشمِ اختر میں