Back to Collection

Khula Hai Sabhi Ke Liye Baab e Rehmat

Written by Allama Iqbal Azeem

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت

وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی

قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی

میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا

تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی

وہ دربار سچ مچ مرے سامنے تھا

ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی

جو اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا

تو تھی دوسرے ہاتھ میں ان کی جالی

دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے

نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی

جو پوچھا ہے تم نے کہ میں نذر کرنے

کو کیا لے گیا تھا تو تفصیل سن لو

تھا نعتوں کا اک ہار اشکوں کے موتی

درودوں کا گجرا، سلاموں کی ڈالی

دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے

دیارِ نبی جس نے آنکھوں سے دیکھا

مقدر ہے سچا مقدر اسی کا

نگاہِ کرم جس پہ آقا نے ڈالی

میں اُس آستانِ حرم کا گدا ہوں

جہاں سر جھکاتے ہیں شاہانِ عالم

مجھے تاجداروں سے کم مت سمجھنا

میرا سر ہے شایانِ تاجِ بلالی

میں توصیفِ سرکار تو کر رہا ہوں

مگر اپنی اوقات سے باخبر ہوں

میں صرف ایک ادنیٰ ثنا خواں ہوں ان کا

کہاں میں کہاں نعتِ کمال و حالی

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت

وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی

قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی