Laa Makaañ, Kis Ka Mere Sarkaar Ka
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaچارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہمِ زنگار کا
رو کشِ خلدِ بریں ہے دیکھ کوچہ یار کا
حيف! بلبل اب اگر لے نام تو گلزار کا
حسن کی بے پردگی پردہ ہے آنکھوں کے لیے
خود تجلی آپ ہی، پردہ ہے روئے یار کا
حسن تو بے پردہ ہے، پردہ ہے اپنی آنکھ پر
دل کی آنکھوں سے نہیں ہے، پردہ روئے یار کا
ایک جھلک کا دیکھنا آنکھوں سے، گو ممکن نہیں
پھر بھی عالم دل سے طالب، ہے تیرے دیدار کا
تیرے باغِ حسن کی، رونق کا کیا عالم کہوں
آفتاب ایک زرد پتا ہے تیرے گلزار کا
کب چمکتا یہ ہلالِ آسماں ہر ماہ یوں
جو نہ ہوتا اس پہ پرتو ابروِ سرکار کا
جاگ اٹھی سوئی قسمت، اور چمک اٹھا نصیب
جب تصوّر میں سمایا، روئے انور یار کا
حسرتِ دیدار دل میں، اور آنکھیں بہ چلیں
تو ہی والی ہے خدایا دیدۂ خوں بار کا
بھیک اپنے مرہمِ دیدار کی کر دو عطا
چاہے کچھ منھ بھی کرنا زخم داماں دار کا
کام نشتر کا کیا ناصح، نصیحت نے تیری
چیر ڈالا اور داماں، زخمِ داماں دار کا
یوں ہی کچھ اچھا مداوا اس کا ہوگا بخیہ گر
چاک کر ڈالوں گریبان زخمِ داماں دار کا
از سرِ بالیں من بر خیز اے ناداں طبیب
ہو چکا تجھ سے مداروا عشق کے بیمار کا
فتنے جو اٹھے مٹا ڈالے روش نے آپ کی
کیوں نہ ہو دشمن بھی قائل خوبیٔ رفتار کا
چوکریں بھولا براقِ بادِ پا یہ دیکھ کر
ہے قدم دوشِ صبا پر اس سبک رفتار کا
کوئی دم کی دیر ہے، آتے ہیں دم کی دیر ہے
اب چمکتا ہے مقدر، طالبِ دیدار کا
جب گرا میں بیخودی میں ان کے قدموں پر گرا
کام تو میں نے کیا اچھے بھلے ہوشیار کا
آبلہ پا چل رہا ہے، بیخودی میں سر کے بل
کام دیوانہ بھی کرتا ہے کبھی ہوشیار کا
آبلوں کے سب کٹورے آہ خالی ہوگئے
منہ ابھی تر بھی نہ ہونے پایا تھا ہر خار کا
آبلے کم مائیگی پر اپنی روئیں رات دن
سوکھ کر کانٹا ہوا، دیکھیں بدن ہر خار کا
وا اسی برتے پہ تھا یہ تتا پانی واہ واہ
پیاس کیا بجھتی، دہن بھی تر نہیں ہر خار کا
پاؤں میں چھبتے تھے پہلے، اب تو دل میں چھبتے ہیں
یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے چھبنا خار کا
پاؤں کیا، میں دل میں رکھ لوں، پاؤں جو طیبہ کے خار
مجھ سے شوریدہ کو کیا کھٹکا ہو نوکِ خار کا
راہ پر کانٹے بچھائے ہیں، کانٹوں پر چلنی ہے راہ
ہر قدم ہے دل میں کھٹکا، اس راہِ پر خار کا
خارِ گل سے دہر میں، کوئی چمن خالی نہیں
یہ مدینہ ہے کہ ہے گلشن گلِ بے خار کا
گل ہو صحرا میں تو بلبل کے لیے صحرا چمن
گل نہ ہو گلشن میں تو گلشن ہے اک بن خار کا
گل سے مطلب ہے جہاں ہو عندلیبِ زار کو
گل نہ ہو تو کیا کرے بلبل کہو گلزار کا
پھر سے ہو جائے نہ عالم میں کہیں طوفانِ نوح
لو ابلتا ہے سمندر اپنی چشمِ زار کا
دھجیاں ہو جائے دامن فرِدِ عصیاں کا میری
ہاتھ آ جائے جو گوشہ دامنِ دلدار کا
کوثر و تسنیم سے، دل کی لگی بجھ جائے گی
مے تو پیاسا ہوں کسی کے شربتِ دیدار کا
آئینہ خانہ میں ان کے تجھ سے صدہا مہر ہیں
مہر کس منہ سے کیا، ہے حوصلہ دیدار کا
جلوہ گاہ خاص کا، عالم بتائے کوئی کیا
مہر عالم تاب ہے، ذرہ حریم یار کا
ہفت کشور ہی نہیں، چودہ طبق روشن کیے
عرش و کرسی لامکاں، پر بھی ہے جلوہ یار کا
زرد رو کیوں ہو گیا خورشید تاباں سچ بتا
دیکھ پایا جلوہ کیا، اس مطلع انوار کا
ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق زیر نگیں
عرش و کرسی لامکاں، کس کا میرے سرکار کا
یہ مہ و خر، یہ ستارے، چرخ کے فانوس ہیں
شمع روشن میں ہے، جلوہ تیرے رخسار کا
مرقدِ نوری پہ روشن ہے یہ لعلِ شب چراغ
یا چمکتا ہے ستارہ آپ کی پیزار کا