Back to Collection

Luti Karbala Me Nabi Ki Nishani

Written by Qaisar

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

علی کا دلارا وہ زہرا کا جانی

نہیں جس کا تاریخ میں کوئی ثانی،

زمیں آسماں اس لیے رو رہے ہیں

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

زمیں آسماں اس لیے رو رہے ہیں

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔۔

علی فاطمہ کی نگاہوں کا تارا

چلا رن میں جس دم نبی کا دلارا،

ہزاروں ہی جانب قیامت کا سایہ

زمیں پھٹ گئی آسماں تھرتھرایا،

ہر اک آنکھ میں آ گیا غم کا پانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

کھلے پھول زخموں کے نازک بدن میں

ہے زخمی مگر مسکراتا ہے رن میں،

سلگتی زمیں پر عبادت تو دیکھو

نبی کے نواسے کی ہمت تو دیکھو،

کبھی ہار ظلم و ستم سے نہ مانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

نہ گزرا کوئی اس طرح امتحاں سے

شکایت نہ کی پھر بھی اپنی زباں سے،

سہے ظالموں کے سبھی جبر اس نے

نہ چھوڑا مگر دامنِ صبر اس نے،

ہے ڈوبی ہوئی درد میں یہ کہانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

وہ تھا سرورِ دونوں عالم کا پیارا

جسے ظالموں تم نے دھوکے سے مارا

تمہیں تیز خنجر پہ چلنا پڑے گا

کہ نارِ جہنم میں جلنا پڑے گا

ملے گی نہ تم کو کہیں شادمانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

کیا گرم ریتی کے دامن پہ سجدہ

نہ لایا لبوں پر کبھی کوئی شکوہ

خدا اور محمد ﷺ کے فرمان والے

وسیلے سے ہوتے ہیں ایمان والے

لوٹاتے ہیں جو دین پر زندگانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

گھٹا ظلم اور جبر کی چھا رہی تھی

ستمگر کی فطرت ستم ڈھا رہی تھی،

نہ اس کی زباں سے رہا بھوکا پیاسا

بڑھاپا ہے جیسا شہِ کربلا کا

نہ ہوگی کسی کی بھی ایسی جوانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

زمیں آسماں بن گئے پیکرِ غم

وہ پیاسے لبوں پر تبسم کا عالم،

تھا عاشور کا دن بھی روزِ قیامت

وہ لو کے تھپیڑے وہ گرمی کی شدت،

محمد کے پیاروں پہ تھا بند پانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

لئینو میری بات کو یاد رکھنا

یہ تیروں کی برسات کو یاد رکھنا

نہ سمجھو کہ قدرت یوں ہی بخش دے گی

تمہیں اس جفا کی سزا بھی ملے گی

کہ آئے گی تم پر بلا آسمانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی

چھدا تیر سے جس گھڑی حلقِ اصغر

ہوئے شدتِ غم سے بے چین سرور،

عجب حال تھا اس گھڑی کربلا کا

دھڑکتا تھا دل کی طرح ذرہ ذرہ،

قیامت تھی معصوم کی بے زبانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

میں جو کہہ رہا ہوں سنو کوفے والو

حقیقت پہ تم آج پردہ نہ ڈالو،

دغاباز کوئی نہیں تم سے بڑھ کر

جو کی تم نے ابنِ علی کو بلا کر

رکھی جائے گی یاد یہ میزبانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

ہر اک ظلم ہنس ہنس کے سہہ لینے والے

یہ آغوشِ خیرالبشر کے ہیں پالے،

کہ سردار جنت کے ہیں ابنِ حیدر

نہیں کوئی زہرا کے جانی کا ہمسر،

نہیں کوئی آلِ محمد کا ثانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

علی کا دلارا نبی کا نواسا

جو دستِ بلا میں رہا بھوکا پیاسا،

فقط سر ہی کیا گھر کا گھر دے دیا ہے

حسین ابنِ حیدر نے ثابت کیا ہے

کہ ہوتی ہے دین کی یوں پاسبانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔

بدلتا رہے چاہے کروٹ زمانہ

نہ بھولے گا یہ کربلا کا فسانہ،

اسے جو سنے گا وہ روئے گا قیصر

کہ اشکوں سے منہ اپنا دھوئے گا قیصر،

کبھی یہ کہانی نہ ہوگی پرانی

لٹی کربلا میں نبی کی نشانی۔