Back to Collection

Maa Bhi Na Ho Duniya Me Aur Baap Bhi Mar Jaye

Written by Zeeshan Abidi

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

احساسِ یتیمی ہے ویراں ہے علیؑ کا گھر

بن باپ کی یہ پہلی رات آئی ہے بچوں

روتی تھی کہیں زینبؑ شبیرؑ کہیں شبرؑ

فضہؑ نے یہ دیکھا تو کہنے لگی رو رو کر

ماں بھی نہ ہو دنیا میں اور باپ بھی مر جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

ماں بھی نہ ہو دنیا میں اور باپ भी مر جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

اللہ اللہ اللہ اللہ

یہ رات خدا جانے کس حال میں گزرے گی

بچوں کی نگاہوں میں تصویر ہے بابا کی

بابا سے جدا ہو کر کس طرح جیا جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

میت جہاں رکھی تھی زینبؑ وہیں بیٹھی ہے

عباسؑ کے چہرے کو اب دیکھ کے روتی ہے

کہتی ہے کوئی میرے بابا کو بلا لائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

ہاتھوں میں رقیہؑ کے بابا کا مصلیٰ ہے

کلثومؑ کے ہاتھوں میں بابا کا عمامہ ہے

بابا نہیں آئیں گے اب کون یہ بتلائے

اللہ کسی پر भी یہ وقت نہیں آئے

اللہ اللہ اللہ اللہ

ماں یاد جو آئے تو ہو آتے تھے تربت پر

رخصت کیا بابا کو حسنینؑ نے یہ کہہ کر

ملنے کہاں جائیں گے جب باپ کی یاد آئے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

اب مجھ کو رلاتا ہے شہزادی کا وہ کہنا

فضہؑ میرے بچوں سے تم دور نہیں رہنا

ماں باپ کے بن جینا مشکل ہے بہت بھائی

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

اس عالمِ غربت میں ماں زندہ اگر ہوتی

بن باپ کے بچوں کو سینے سے لگا لیتی

آغازِ یتیمی ہے دل غم سے نہ پھٹ جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

بھولی ہیں کہاں زینبؑ وہ چومنا شانوں کو

جب شام میں دیکھے گی رسی کے نشانوں کو

یاد آئے گی بابا کی اس وقت بہت بھائی

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

ذیشان و رضا ہائے! نوحہ تھا یہ فضہؑ کا

اب بیٹیوں کے سر پہ سایہ نہیں بابا کا

مشکل ہے یتیموں پہ یہ رات گزر جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے

ماں بھی نہ ہو دنیا میں اور باپ بھی مر جائے

اللہ کسی پر بھی یہ وقت نہیں آئے