Back to Collection

Maa Tere Doodh Ka Haq Hum Se Ada Kiya Hoga

Written by Zaheer Aalam

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

تو ہو ناراض تو خوش ہم سے خدا کیا ہوگا

یاد ہے آج بھی اے ماں وہ زمانہ میرا

مجھ کو اسکول تلک چھوڑ کے آنا تیرا

سرد جاڑوں کی تھرکتی ہوئی راتوں میں مجھے

ماں چھپا لیتی تھی تو پیار سے باہوں میں مجھے

گرمیوں میں مجھے آنچل کی ہوا دیتی تھی

پھولنے پھلنے کی تو مجھ کو دعا دیتی تھی

رات بھر جاگ کے سینے پہ سلایا تو نے

خود رہی بھوکی مگر مجھ کو کھلایا تو نے

تیرے جیسا کسی اور کا دل کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

تجھ کو اللہ نے کیا خوب شرف بخشا ہے

ذکر قرآن کے پاروں میں تیرا آیا ہے

تیری عظمت کو فرشتوں نے سلامی دی ہے

یعنی ولیوں نے اماموں نے غلامی کی ہے

اپنے بیٹوں کے ستم ہنس کے اٹھا لیتی ہے

اور تو ہے کہ انہیں پھر دعا دیتی ہے

ہے تیری ذات پہ اللہ کی قدرت کو بھی ناز

ہو اجازت تو پڑھوں تیرے آنچل پہ نماز

مرتبے میں کوئی ماں تجھ سے بڑا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

تو نے اولاد پہ کیا کچھ نہیں قربان کیا

اپنی نیندیں ہمیں دیں اپنا وہ سکھ چین دیا

لوگ کرتے تھے اگر تجھ سے شکایت میری

جان پر کھیل کے کرتی تھی حفاظت میری

جب کوئی مجھے ستائے تو بگڑ کرتی تھی

میری خاطر کبھی جھگڑے پہ اتر جاتی تھی

میری سانسوں میں تو موجود ہے خوشبو بن کر

میری راتوں میں چمکتی ہے تو جگنو بن کر

تیرا دل توڑ کے بیٹوں کا بھلا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

یاد آتی ہے ابھی تک مجھے باتیں تیری

میرے رونے سے چھلک جاتی تھیں آنکھیں تیری

تو مجھے روتا ہوا دیکھ کر رو دیتی تھی

اپنا سکھ چین میرے واسطے کھو دیتی تھی

یہ دعائیں مجھے دے دے میں سنور جاؤں گا

تو یوں ہی روٹھی رہے گی تو میں مر جاؤں گا

ہوگا احسان گلے بڑھ کے لگا لے مجھ کو

اپنی ممتا بھری جنت میں چھپا لے مجھ کو

یہی رستہ ہے اور اس کے سوا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

تیری عظمت کو کیا بڑھ کے فرشتوں نے طواف

اور قدم میں نے اٹھائے تیری مرضی کے خلاف

کتنا بدبخت ہوں فرمانِ خدا بھول گیا

ماں کو دکھ دے کے میں جنت کا پتا بھول گیا

مانتا ہوں کہ خطا کار گناہ گار ہوں میں

تو خفا ہے تو مصیبت میں گرفتار ہوں میں

معاف کر دے مجھے پھر بڑھ کے سہارا دے دے

ماں میری ڈوبتی کشتی کو کنارہ دے دے

ورنہ مجھ جیسا گناہ گار کوئی کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

لوگ بیوی کے لیے ماں کو بھلا دیتے ہیں

اس کے جذبات کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں

بوڑھے ماں باپ کے جو کام نہیں آؤ گے

اپنی اولاد سے تم اس کا صلہ پاؤ گے

یہ اگر بچھڑے تو پھر ہاتھ کہاں آئیں گے

رحمتوں کی لیے سوغات کہاں آئیں گے

ہاں ابھی وقت ہے ماں باپ کی خدمت کر لو

نیکیاں لوٹ لو اور خوشیوں سے دامن بھر لو

جیئے گا بس وہی جنت میں جو ماں کا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

واسطہ آدم و حوا کا تجھے دیتا ہوں

واسطہ شاہِ مدینہ کا تجھے دیتا ہوں

واسطہ دیتا ہوں حیدر کی شجاعت کا تجھے

واسطہ فاطمہ زہرا کی عبادت کا تجھے

تو جو خوش ہوگی تو خوش ہوں گے حسین اور حسن

ورنہ ویراں رہے گا میرے جیون کا چمن

اے میری ماں تو میرا دودھ نہ بخشے گی اگر

آگ دوزخ کی جلے گی مجھے رہ رہ کر

بعد مرنے کے ذرا سوچ میرا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

ماں کا دل ٹوٹے تو آواز خدا تک جائے

یہ جو روئے تو فرشتوں کو بھی رونا آئے

ماں کے دکھ درد کو بیٹا اگر نہ سمجھے گا

اس کا جنت میں خدا بھی نہیں جانے دے گا

میرے آقا نہیں دیں گے اسے جامِ کوثر

رات دن برسے گی اللہ کی لعنت اس پر

چاہے حافظ ہو کہ حاجی یا نمازی عالم

ایسے بیٹوں سے خدا کیسے ہو راضی عالم

جو بھلا ہی نہیں کرے گا تو بھلا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

تو ہو ناراض تو خوش ہم سے خدا کیا ہوگا

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا