Marz e Ishq Ka Bimaar Bhi Kya Hota He
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaمرض عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
جتنی کرتا ہے دوا درد سوا ہوتا ہے
کیوں ابس خوف سے دل اپنا ہوا ہوتا ہے
جب کرم آپ کا عاصی پہ شہا ہوتا ہے
جس کا حامی وہ شاہ ہر دوسرا ہوتا ہے
قید و بند دو جہاں سے وہ رہا ہوتا ہے
ان کا ارشاد ہے ارشاد خداوند جہاں
یہ وہی کہتے ہیں جو رب کا کہا ہوتا ہے
بادشاہان جہاں ہوتے ہیں مانگتا اس کے
آپ کے کوچے کا شہا جو گدا ہوتا ہے
پلّہ نیکی کا اشارے سے بڑھا دیتے ہیں
جب کرم بندہ نوازی پہ تلا ہوتا ہے
سارا عالم ہے رضا جُویِ خداوندِ جہاں
اور خدا آپ کا جویائے رضا ہوتا ہے
ہم نے یوں شمعِ رسالت سے لگائی ہے لَو
سب کی جھولی میں انہی کا تو دیا ہوتا ہے
از شہاں تا بگدایانِ جہاں اِک عالم
آپ کے در پہ شہا عرض رسا ہوتا ہے
ایسی سرکار ہے، بھر پور جہاں سے لینے،
روز ایک میلا نیا در پہ لگا ہوتا ہے
دونوں ہاتھوں سے لُٹا کرتے ہیں خزانہ لیکن
جتنا خالی کریں اُتنا ہی بھرا ہوتا ہے
کردہ نا کردہ اشارے میں تمہارے ہو جائے
بے کیا، آپ کے صدقے میں کیا ہوتا ہے
بے کس و بے بس و بے یار و مددگار جو ہو
آپ کے در سے شہا سب کا بھلا ہوتا ہے
اُن سے دشمن کی مصیبت نہیں دیکھی جاتی
دشمنوں کے لیے جی اُن کا بڑا ہوتا ہے
جگمگا اٹھتا ہے دل کا میرے ذرہ ذرہ
جب میرا جانِ قمر جلوہ نما ہوتا ہے
آپ محبوب ہیں، اللہ کے ایسے محبوب
ہر محب آپ کا، محبوبِ خدا ہوتا ہے
جس گلی سے تو گزرتا ہے میرے جانِ جناں
ذرہ ذرہ تیری خوشبو سے بسا ہوتا ہے
عرشِ اعلیٰ سے کہیں بالا ہے رُتبہ اُس کا
آپ کے قدموں سے سر جس کا لگا ہوتا ہے
پیاسو مژدہ ہو کہ وہ ساقیٔ کوثر آئے
چین ہی چین ہے، اب جام عطا ہوتا ہے
آستانے کے گداؤں کے لیے رحمت ہے
اور اعدا پہ شہا قہرِ خدا ہوتا ہے
کب گلِ طیبہ کی خوشبو سے بسیں دل و جاں
دیکھیے کب کرمِ بادِ صبا ہوتا ہے
دیکھیے غنچۂ دل اپنا کھلے گا کب تک
دیکھیے کب دلِ پژمردہ ہرا ہوتا ہے
کب بہارِ چمنِ طیبہ نظر آتی ہے
دیکھیے کب دلِ پژمردہ ہرا ہوتا ہے
سر بلندی اسے حاصل ہے جنابِ رب میں
جو کوئی در پہ تیرے ناصیہ سا ہوتا ہے
دل تپا سوزِ محبت سے کہ سب میل چھوٹیں
تپنے کے بعد ہی تو سونا کھرا ہوتا ہے
کب مٹانے سے کسی کے خطِ تقدیر مٹیں
ہو کے رہتا ہے جو قسمت کا لکھا ہوتا ہے
محوِ اثبات کی ہاں آپ نے قدرت پائی
تم جو چاہو تو برا آج بھلا ہوتا ہے
تیرا دیدار میسر ہو جسے نورِ خدا
اسے دنیا ہی میں دیدارِ خدا ہوتا ہے
وہ نہیں حشر میں جو ہوگا، شہا بے پردہ
بلکہ جو آپ کے پردہ میں عطا ہوتا ہے
تیرا جلوہ نہیں، اللہ کا جلوہ ہے وہ
تیری صورت سے، خدا جلوہ نما ہوتا ہے
تو ہی آئینۂ ذات اَحَدِی اے پیارے
یوں اُسی کا ہے وہ جلوہ، جو تیرا ہوتا ہے
داغِ دل میں جو مزا پایا ہے نوری تم نے
ایسا دنیا کی کسی شے میں مزا ہوتا ہے