Na Bhoolega Sajjad Noha
Written by Zeeshan Abidi
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaہائے! ہائے! ہائے۔۔! ہائے۔۔!
ہائے! ہائے! ہائے۔۔! ہائے۔۔!
سجاد۔۔۔۔۔
مولا سجاد کا نوحہ سنتے ہی
عزا خانۂ دل میں
ہو گئی مجلس برپا (ہائے سجاد۔۔)
ہو گیا ماتم برپا (ہائے سجاد۔۔)
ہائے ! سجاد۔۔۔
ہو گئی مجلس برپا
ہو گیا ماتم برپا
تاریخِ غمِ سجاد میں یہ
اربابِ مقاتل نے لکھا
نعمان بنِ منظر سے یہ
سجاد نے اک دن فرمایا
آغازِ سفر سے آخر تک
کیا کیا نہ ستم گزرے ہم پر
ہاں سات مصائب ایسے تھے
جو سخت ترین ہوئے ہم پر
سجاد کی غربت واویلا
ہائے وہ قیامت واویلا
وہ ستم وہ سختیاں
اور شام کا وہ راستہ
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
تلوار اور نیزوں سے ہم پر
وہ حملہ کرتے جاتے تھے
لوگوں کی بھیڑ میں لاتے تھے
اور ڈھول و تاول بجواتے تھے
ہنستے تھے وہ ہم پر واویلا
سادات کے غم پر واویلا
شام کی راہوں میں جتنا
سرکشوں نے تڑپایا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
عباس اور بابا کا سر وہ
پھپھیوں کے سامنے رکھتے تھے
اکبر اور قاسم کے سر سے
میرے سامنے شامی کھیلتے تھے
کہتی تھی سکینہ واویلا
اے شہِ مدینہ واویلا
ہائے شہدا کے سروں پر
دوڑنا وہ گھوڑوں کا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
اک موڑ پہ شامی لوگوں نے
جب آگ گھروں سے برسائی
وہ آگ بجھاتا میں کیسے
جو میرے عمامے پر آئی
میرے ہاتھ بندھے تھے واویلا
ہاں سب دیکھ رہے تھے واویلا
جل گیا میرا عمامہ
جل گیا سر بھی میرا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
وہ صبحوں سے لے کر شام تلک
گلیوں میں پھراتے تھے ہم کو
بازار میں سب کے سامنے وہ
درے بھی لگاتے تھے ہم کو
لوگوں کو بلا کر واویلا
یہ کہتے تھے ستمگر واویلا
یہ ہیں باغی ان کو مارو
وقت تھا ہم پر کیسا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہاں کربوبلا سے شام تلک
ہم ایک رسن میں جکڑے تھے
اللہ۔۔ اللہ
اہل خيبر اور خندق کے
گھر کے آگے سے جب گزرے
پھپھیوں کا وہ رونا واویلا
ظالم کا وہ کہنا واویلا
یہ علی کی بیٹیاں ہیں،
آؤ ان سے لو بدلا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہاں اک بازار ایسا بھی تھا
خدام جہاں پر بکتے تھے
افسوس غلاموں کی طرح
وہ ہم کو بیچنا چاہتے تھے
ہائے ہائے ہائے
یہ ہم کہتے تھے رو کر واویلا
اللہ مدد کر واویلا
کوئی بھی ایسا نہیں تھا
جسنے پتھر نہ مارا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے ! شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ذیشانِ عزا، عرفانِ عزا
سجاد نے رو کر فرمایا
ہمیں ایسے مقاموں پر رکھا
جہاں چھت تھی نہ کوئی سایہ تھا
ہاں دن کی وہ گرمی واویلا
اور رات کی سردی واویلا
پیاس کی حالت میں نہ پوچھو
کتنا مشکل تھا جینا
واللہ۔۔ سجاد
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہائے شام کا وہ بازار
نہ بھولے گا سجاد
نہ بھولے گا سجاد
ہو گئی مجلس برپا
ہو گیا ماتم برپا