Back to Collection

Nabiyul Ambia Tum Ho

Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

کوئی کیا جانے جو تم ہو، خدا ہی جانے کیا تم ہو

خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو

نبیوں میں ہو تم ایسے نبیل انبیاء تم ہو

حسینوں میں تم ایسے ہو کہ محبوبِ خدا تم ہو

تمہارا حسن ایسا ہے کہ محبوبِ خدا تم ہو

ماہِ کامل کرے کسبِ ضیا وہ مہ لقاء تم ہو

علوِ مرتبت پیارے تمہارا سب پہ روشن ہے

مکیںِ لا مکاں تم ہو شاہِ عرشِ اولیٰ تم ہو

تمہاری حمد فرمائی خدا نے اپنے قرآن میں

محمد اور ممجّد مصطفیٰ و مجتبیٰ تم ہو

جو سب سے پچھلا ہو پھر اس سے پچھلا ہو نہیں سکتا

کہ وہ پچھلا نہیں، اگلا ہوا، اس سے ورا تم ہو

تمہیں سے فتح فرمائی تمہیں پر ختم فرمائی

رسل کی ابتدا تم ہو نبی کی انتہا تم ہو

خدا نے ذات کا اپنی تمہیں مظہر بنایا ہے

جو حق کو دیکھنا چاہیں تو اس کے آئینہ تم ہو

تمہیں باطن تمہیں ظاہر تمہیں اوّل تمہیں آخر

نہاں بھی ہو عیاں بھی، مبتدا و منتہیٰ تم ہو

منور کر دیا ہے آپ کے جلووں نے عالم کو

ماہ و خورشید کو بخشی ضیا نورِ خدا تم ہو

مٹا دی کفر کی ظلمت تمہارے روئے روشن نے

سویرا شرک کا تم نے کیا شمس الضحیٰ تم ہو

جہاں تاریک تھا سارا اندھیرا ہی اندھیرا تھا

تم آئے ظلمتیں تم سے مٹیں بدر الدجیٰ تم ہو

میرا منہ کیا کہ میں مدح و ستائش میں زباں کھولوں

میرے آقا تم ایسے کہ ممدوحِ خدا تم ہو

رفعنا سے تمہاری رفعتِ بالا ہوئی ظاہر

کہ محبوبانِ رب میں سب سے عالی مرتبہ تم ہو

علوِ رتبہء سرکارِ عالی سب پہ روشن ہے

مکیںِ لا مکاں تم ہو، شاہِ عرشِ اولیٰ تم ہو

شبِ معراج سے اے سیدِ کل ہو گیا ظاہر

رسل ہیں مقتدی سارے امام الانبیاء تم ہو

نہ ہوتے تم نہ ہوتے وہ، کہ اصلِ جملہ تم ہی ہو

خبر تھے وہ تمہاری میرے مولا مبتدا تم ہو

تمہارے چاہنے والے کو کچھ ایسی محبت ہے

ادھر ہو جائے وہ مولا دھر صدرالوریٰ تم ہو

تمہارے چاہنے والے اُسے محبوب ہیں سارے

کچھ اِس انداز سے پیارے حبیبِ کبریا تم ہو

تمہارے بعد پیدا ہو نبی کوئی نہیں ممکن

نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیاء تم ہو

یہ کیا میں نے کیا کیوں ڈھونڈ ڈالا عرصۂ محشر

ہمیں معلوم تھا پیارے ہمارا مدعا تم ہو

مگر ایسا نہ کیوں ہوتا کہ محشر میں یہ کھلنا تھا

شافعِ مجرماں پیشِ خدا تنہا شہا تم ہو

گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر

کہ ہر بے کل کی کل، ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو

خبر لیجے خدا را میرے مولا مجھ سے بے کس کی

کہ ہر بے کس کے کس، بے بس کے بس روحی فدا تم ہو

مسلط کر دیا تم کو خدا نے اپنے غیبوں پر

نبی مجتبیٰ تم ہو رسول مرتضیٰ تم ہو

چمک جائے دل نوری تمہارے پاک جلووں سے

مٹا دو ظلمتیں دل کی میرے نور الہدیٰ تم ہو