Paigham Saba Laai Hai Gulzare Nabi Se
Written by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaپیغامِ صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
آیا ہے بلوا مجھے دربارِ نبی سے
ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
ہر اشک پہ اک خلد ہے ہر اشک کی قیمت
تحفہ یہ ملا ہے مجھے سرکارِ نبی سے
آیا ہے بلوا مجھے دربارِ نبی سے
شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
آیا ہے بلوا مجھے دربارِ نبی سے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے
نا شکر یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے
لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سنا کیے
ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے
ہم کو تو اپنے سایہ میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے
ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے !
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دو پہر کی ہے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
اصلِ مراد حاضری اس پاک در کی ہے
کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے
ان پر درود جن کو حجر تک کریں سلام
ان پر سلام جن کو تحیت شجر کی ہے
ان پر درود جن کو کسِ بے کساں کہیں
ان پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ بارگاہ مالکِ جن و بشر کی ہے
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام
خوبی انہی کی جوت سے شمس و قمر کی ہے
سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
کلمے سے تر زبان درخت و حجر کی ہے
سب بحر و بر سلام کو حاضر ہیں السلام
تملیک انہی کے نام تو ہر بحر و بر کی ہے
عرض و اثر سلام کو حاضر ہیں السلام
ملجا یہ بارگاہ دعا و اثر کی ہے
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام
راحت انہی کے قدموں میں شوریدہ سر کی ہے
خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام
مرہم یہیں کی خاک تو خستہ جگر کی ہے
سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ جلوہ گاہ مالکِ ہر خشک و تر کی ہے
سب کر و فر سلام کو حاضر ہیں السلام
ٹوپی یہیں تو خاک پہ ہر کر و فر کی ہے
اہلِ نظر سلام کو حاضر ہیں السلام
یہ گرد ہی تو سرمہ سب اہلِ نظر کی ہے
بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنت کی جوانی
سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی
الفت ہے مجھے سایۂ دیوارِ نبی سے
آیا ہے بلوا مجھے دربارِ نبی سے
یہ پیاری پیاری کیاری تیرے خانہ باغ کی
سرد اس کی آب و تاب سے آتش سقر کی ہے
جنت میں آ کے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکرِ خدا نوید نجات و ظفر کی ہے
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف و رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا تَنہر کی ہے
جن جن مرادوں کے لیے احباب نے کہا
پیشِ خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے
آ کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا
مشتاق طبع لذتِ سوزِ جگر کی ہے
بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے
ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشتِ عمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے
ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے
کالک جبیں کی سجدۂ در سے چھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے
ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
جالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے
برسا کہ جانے والوں پہ گوہر کروں نثار
ابرِ کرم سے عرض یہ میزابِ زر کی ہے
آغوشِ شوق کھولے ہے جن کے لیے حطیم
وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ دھن کدھر کی ہے
ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جانِ نو
یہ راہِ جاں فزا میرے مولا کے در کی ہے
گھڑیاں گنی ہیں برسوں کی یہ شب گھڑی پھری
مر مر کے پھر یہ سل میرے سینے سے سرکی ہے
اللہ اکبر ! اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک
حسرت ملائکہ کو جہاں وضعِ سر کی ہے
معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو !
کرسی سے اونچی کرسی اسی پاک گھر کی ہے
سعدین کا قران ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کیے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے
محبوبِ ربِّ عرش ہے اس سبز قبے میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے
چھائے ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود !
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش دُرر کی ہے
ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگیِ زلف و رخ آٹھوں پہر کی ہے
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے
تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے
اے وائے بے کسیِ تمنا کہ اب امید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے
یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جائے
اور بارگاہ مرحمتِ عام تر کی ہے
معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایک بار بار
عاصی پڑے رہیں تو صلا عمر بھر کی ہے
زندہ رہیں تو حاضریِ بارگہ نصیب
مر جائیں تو حیاتِ ابد عیش گھر کی ہے
کیوں تاجدارو ! خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
جو آج جھولیوں میں گدایانِ در کی ہے
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے
عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو !
مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے
کعبہ ہے بیشک انجم آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں میں ! دولہا کے گھر کی ہے
کعبہ دلہن ہے تربتِ اطہر نئی دلہن
یہ رشکِ آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے
دونوں بنیں سجیلی انیلی بنیں مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے
اتنا عجب بلندیِ جنت پہ کس لیے
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے
عرشِ بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اتری ہوئی شبیہ تیرے بام و در کی ہے
وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی برات
ادنیٰ نچھاور اس میرے دولہا کے سر کی ہے
اف بے حیائیاں کہ یہ منہ اور تیرے حضور
ہاں تو کریم ہے تیری خو درگزر کی ہے
تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کیا پرسش اور جا بھی سگِ بے ہنر کی ہے
مجرم بلائے آئے ہیں جاؤُکَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
سرکار ہم گنواروں میں طرزِ ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
جنت نہ دیں، نہ دیں، تیری رؤیت ہو خیر سے
اس گل کے آگے کس کو ہوس برگ و بار کی ہے
شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کریں بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے
سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا
یہ آبرو رضا تیرے دامانِ تر کی ہے
پیغامِ صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
آیا ہے بلوا مجھے دربارِ نبی سے