Back to Collection

Poochte Kya Ho Arsh Par Yun Gaye Mustafa Ke Yun

Written by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں

کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں

قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیں

رُوحِ قُدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سُنا کہ یوں

میں نے کہا کہ جلوئہ اصل میں کس طرح گمیں

صبح نے نورِ مہر میں مِٹ کے دِکھا دِیا کہ یوں

ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا

چھک کے مہک میں پھول کی گِرنے لگی صبا کہ یوں

دِل کو دے نُور و داغِ عِشق پھر میں فدا دو نیم کر

مانا ہے سُن کے شقِّ ماہ آنکھوں سے اب دِکھا کہ یوں

دل کو ہے فِکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور

اے میں فدا لگا کر ایک ٹھوکر اِسے بتا کہ یوں

باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل

کام ہے ان کے ذِکر سے خیر وہ یوں ہوا کہ یوں

جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حُسن کیوں کر آئے

لا اسے پیشِ جلوہ زمزمۂ رضاؔ کہ یُوں