Back to Collection

Raushan Jamal-e-Yaar Se Hai Anjuman Tamam

Written by Hasrat Mohani

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتشِ گُل سے چمن تمام

حیرت غرورِ حسن سے شوخی سے اضطراب

دل نے بھی تیرے سیکھ لئے ہیں چلن تمام

اللہ رے جسمِ یار کی خوبی کہ خود بخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک

باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام

دیکھو تو چشمِ یار کی جادو نگاہیاں

بیہوش اِک نظر میں ہوئی انجمن تمام

ہے نازِ حُسن سے جو فروزاں جبینِ یار

لبریز آبِ نور ہے چاہِ زگن تمام

نشوونمائے سبزہ و گُل سے بہار میں

شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام

گلزار بن گئی ہے زمینِ دکن تمام

اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں

پھیلے گی یوں ہی شورشِ حبِ وطن تمام

سمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریبِ مرگ

مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام

شیرینئ نسیم ہے سوز و گدازِ میر

حسرت ترے سخن پہ ہے لطفِ سخن تمام