Back to Collection
Rehmat E Do Aalam Ka Jaan Nishaar Ho Jaye
Written by Unknown
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaرحمتِ دو عالم کا جان نثار ہو جائے
بھیک مانگنے والا تاجدار ہو جائے
اور وہ کسی سے ڈر جائیں یہ تو ہو نہیں سکتا
سیرتِ محمد سے جس کو پیار ہو جائے
ہو نگاہِ مومن میں کم سے کم جلال اتنا
خار پھول ہو جائیں پھول خار ہو جائے
دونوں ہاتھ پھیلا کر خود بلائے گی جنت
جس کا شافعِ محشر ذمہ دار ہو جائے
گر اشارہ ہو جاتا دوسری بھی انگلی کا
چند ایک لمحے میں دو سے چار ہو جائے
اس کو آتشِ دوزخ بھی جلا نہیں سکتی
جو نبی کی گلیوں کا خاکسار ہو جائے
زندگی سنور جائے عاقبت بھی بن جائے
جو مجاہدِ ملت پہ نثار ہو جائے
آقا کی غلامی کے دائرے میں آ جاؤ
پھر یہ غیر ممکن ہے اپنی ہار ہو جائے