Sabir Piya Ka Urs Manayenge
Written by Mobin Tariq
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaدن بارہ ربیع الاول کا جس شان سے آیا ہے
آؤ چلو دیوانو صابر نے بلایا ہے
جھومیں گے ناچیں گے مستی میں گائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
رحمت کی بارش ہے صابر کے انگنا
دامن کو خوشیوں سے اپنے تو بھرنا
نورانی کلئیر نگریا میں جائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
آئے ہیں میلے میں مست و قلندر
مستی میں کہتے ہیں شاہ و تونگر
رنگت میں صابر کی تن من رنگائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
ہم کو بلایا ہے صابر ولی نے
پائی ہیں من کی مرادیں سبھی نے
اس در سے تقدیر اپنی بنائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
آئی ہے کلئیر میں ولیوں کی ٹولی
صابر کی نسبت میں دنیا یہ بولی
منگتوں پہ صدقہ نبی کا لٹائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
عثمان ہارون خواجہ پیا بھی
وارث علی آئے خسرو نظامی
سب مل کے صابر کی محفل سجائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
حاجی علی ملنے ممبئی سے آئے
سوغات تاج الوریٰ بھی ہیں لائے
یہ بو علی شاہ قلندر بھی گائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
سب کی زبان پر ہے یہ ذکر جاری
چاہت میں کہتی ہے یہ دنیا ساری
پروانے صابر پہ جان لٹائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
نورانی منظر ہے کیا پیارا پیارا
دولہا بنا آج صابر ہمارا
سارے عقیدت سے چادر چڑھائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
کلئیر کے صابر جی ہیں نہر والے
بابا فرید کی گود کے پالے
بلبل تمہی پہ ہم بلہاری جائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
چم چم چمکتا ہے نورانی روضہ
دیکھو جدھر بھی ہے ان کا ہی جلوہ
رحمت کے ساون میں ہم سب نہائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
حسنی حسینی ہیں صابر ہمارے
مولا علی کے نبی کے ہیں پیارے
ہم کو خدا سے یقیناً ملائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے
اکرم اور اسلم مبارک بھی حاضر
سن لو سبھی عرض او میرے صابر
طارق چلو ان کے لنگر کو کھائیں گے
صابر پیا کا عرس منائیں گے