Back to Collection

Sochta Hoon Main Wo Ghari Kya Ajab Ghari Hogi

Written by Maulana Abdul Sattar Niyazi

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

سوچتا ہوں میں وہ گھڑی کیا عجب گھڑی ہوگی

جب درِ نبی پر ہم سب کی حاضری ہوگی

آرزو ہے سینے میں گھر بنے مدینے میں

ہو کرم جو بندے پر بندہ پروری ہوگی

کبریا کے جلووں سے کیا سماں بندھا ہوگا

محفلِ نبی جس دم عرش پر سجی ہوگی

بات کیا ہے بادِ صبا اتنی کیوں معطر ہے

سبز سبز گنبد کو چوم کر چلی ہوگی

سو کھلیں گے اس کے لیے رحمتوں کے دروازے

نعتِ مصطفیٰ جس نے ایک بھی سنی ہوگی

ایک ہی نشانی ہے مصطفیٰ کے مے کش کی

مصطفیٰ کے مے کش کی آنکھ مدھ بھری ہوگی

نامِ مصطفیٰ کی قسم پرسکون ہوں میں اب تک

تم بھی نام لو ان کا گھر میں شانتی ہوگی

دیکھ تو نیازی ذرا سو گیا کیا دیوانہ

ان کی یاد میں شاید آنکھ لگ گئی ہوگی