Back to Collection

Soye Hain Woh Bazahir Dil Unka Jaagta Hai

Written by Ajmal Sultanpuri

Urdu

Complete Ash'aar & Transliteration

Matla to Maqta

سوئے ہیں وہ بظاہر دل ان کا جاگتا ہے

تلوے سے ان کے قدسی پیشانی مل رہا ہے

آنکھیں کھلیں تو پوچھا جبریل کہیے کیا ہے

جبریل بولے آقا خالق بلا رہا ہے

سرکار حکم ہو تو حاضر کروں سواری

سج کر براقِ انور دروازے پر کھڑا ہے

نعلینِ پاک پہنے نکلے حرم سے باہر

دیکھو تو قدسیوں کا میلا لگا ہوا ہے

تعظیم سے فرشتے بولے سلام علیکَ

صلِّ علیٰ کا نغمہ ہر سمت گونجتا ہے

امت کو یاد کر کے آقا ہوئے روانہ

اور پہنچے بیتِ مقدس جو خانۂ خدا ہے

دیکھا کل انبیاء ہیں موجود باجماعت

بعد از سلام بولے اب انتظار کیا ہے

سرکار نے امامت فرمائی انبیاء کی

ہر مقتدی سے افضل رتبہ امام کا ہے

پھر ہو گئے محمد سوئے فلک روانہ

اب ہو کسی بھی شے جنبش مجال کیا ہے

جنت سجی ہوئی ہے افلاک ہے مزین

راستے میں قدسیوں کا پہرہ لگا ہوا ہے

جبریل نے بھی آخر سدرہ سے ساتھ چھوڑا

بولے کہ یا محمد یہ میری منتہا ہے

رف رف میں بیٹھ کر کے آگے بڑھے محمد

عرشِ بریں کو دیکھا قدموں کو چومتا ہے

وارفتہ بر سماعت آوازِ ادنُ منّی

مہمان مصطفیٰ ہیں اور میزبان خدا ہے

یہ وصل دو کماں کا یا اس سے بھی کہیں کم

قربِ خدا کی منزل معراجِ مصطفیٰ ہے

معراج میں نبی کو اللہ نے بلا کر

سب کچھ دکھا دیا ہے سب کچھ بتا دیا ہے