Sultaan E Arab Sayyid E Abraar Tumhi Ho
Written by Unknown
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaسلطانِ عرب سیدِ ابرار تمہی ہو
سلطانِ عرب سیدِ ابرار تمہی ہو
یا رب بہ طفیلِ رسولِ ثقلین
یا رب بہ طفیلِ فاتحِ بدر و حنین
عصیاںِ مرا دو حصہ کن در عرصات
نیمے بہ حسن بخش نیمے بہ حسین
تعظیم سے لیتا ہے خدا نامِ محمد
کیا نام ہے اے صلِ علیٰ نامِ محمد
اللہ کرے اس پہ حرام آتشِ دوزخ
جس شخص کے ہو دل پہ لکھا نامِ محمد
رب نے فرمایا میری قدرت کی حد کوئی نہیں
اور میرے محبوب کی رحمت کی حد کوئی نہیں
جب ملک سمجھے نہیں تو آدمی سمجھے گا کیا
آمنہ کے لال کی عظمت کی حد کوئی نہیں
حدِ توصیف سے بھی نام ہے بالا تیرا
کہ خدا آپ ہے چاہنے والا تیرا
تیرے صدقے ہوئی منظور دعاۓ آدم
روزِ اول ہی تھا موجود اجالا تیرا
سلطانِ عرب سیدِ ابرار تمہی ہو
امت کے نگہبان میری سرکار تمہی ہو
جیتے ہیں بھروسے پہ تیرے چاہنے والے
گر تم نہ سنبھالو تو ہمیں کون سنبھالے
اے خاصۂ خاصانِ رسول وقتِ دعا ہے
امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
اے غریبوں کے نگہبان کہاں ہے آجا
آجا امت کے نگہبان کہاں ہے آجا
تیری امت ہے پریشاں کہاں ہے آجا
لے کے پھر ہاتھوں میں قرآن کہاں ہے آجا
مائل بہ کرم احمدِ مختار تمہی ہو
مشکل میں غریبوں کے مددگار تمہی ہو
پونجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے
محبوب کیا مالک و مختار بنایا
ایسا تجھے خالق نے طرحدار بنایا
یوسف کو تیرا طالبِ دیدار بنایا
کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر
کونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا
کونین میں تم جیسا حسین کوئی نہیں ہے
شیدا ہے خدا جس کا وہ دلدار تمہی ہو
تم سے ہی سرِ حشر میری آس لگی ہے
تم سے ہی سرِ حشر میری آس لگی ہے
پاس کچھ بھی تو نہیں اشکِ نظامت کے سوا
جرمِ بے حد کے سوا دامنِ رحمت کے سوا
میں دیوانہ ہوں میرے پاس محشر میں کھڑے رہنا
نہ جانے کیا کہوں میں اور کیا پوچھے خدا مجھ سے
مجھ گناہگار کو محشر میں نہ بلوائیں حضور
روسیاہ سامنے آتا ہوئے شرماتا ہے
حشر کا دن ہے میرے عیب کھلے جاتے ہیں
لاج رکھنا میری سرکار مدینے والے
کوئی کسی کا کوئی کسی کا
پر اک تم سے میری آس لگی ہے
تم سے ہی سرِ حشر میری آس لگی ہے
محشر میں گناہگار کے غمخوار تمہی ہو