Tajal’li e Noor e Qidam Ghaus e Azam
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaتجلّیء نورِ قِدَم غوثِ اعظم
ضیاءء سراجُ الظّلم غوثِ اعظم
ترا حل ہے، ترا حرم غوثِ اعظم
عرب تیرا تیرا، عجم غوثِ اعظم
کرم آپ کا ہے عام غوثِ اعظم
عنایت تمہاری اتم غوثِ اعظم
مخالف ہوں گو سو پدم غوثِ اعظم
ہمیں کچھ نہیں اس کا غم غوثِ اعظم
چلا ایسی تیغِ دو دم غوثِ اعظم
کہ اعدا کے سر ہوں قلم غوثِ اعظم
وہ اک وار کا بھی نہ ہوگا تمہارے
کہاں ہے مخالف میں دم غوثِ اعظم
تیرے ہوتے ہم پر ستم ڈھائیں دشمن
ستم ہی ستم ہی ستم غوث اعظم
کہاں تک سنیں ہم مخالف کے طعنے
کہاں تک سہیں ہم ستم غوث اعظم
بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دے
ذرا لے لے تیغ دو دم غوث اعظم
نہیں لاتا خاطر میں شاہوں کو شاها
تیرا بندۂ بے درم غوث اعظم
کرم چاہیے تیرا، تیرے خدا کا
کرم غوث اعظم، کرم غوث اعظم
گھٹا حوصلہ غم کی کالی گھٹا کا
بڑھی ہے گھٹا دم بہ دم غوث اعظم
بڑھا نخداسر سے پانی الم کا
خبر لیجیے ڈوبے ہم غوث اعظم
کرو پانی غم کو بہا دو الم کا
گھٹائیں بڑھیں ہو کرم غوث اعظم
نظر آے مجھکو نہ صورت الم کی
نہ دیکھوں کبھی روئے غم غوث اعظم
بڑھا ہاتھ کر دستگیری ہماری
بڑھا ابر غم دم بہ دم غوث اعظم
خدارا ذرا ہاتھ سینے پہ رکھ دو
ابھی مٹتے ہیں غم، الم غوث اعظم
خدا نے تمہیں محو و اثبات بخشا
ہو سلطان لوح و قلم غوث اعظم
هے قسمت مری ٹیڑھی تم سیدھی کر دو
نکل جائیں سب پیچ و خم غوث اعظم
خبر لو ہماری کہ ہم ہیں تمہارے
کرو ہم پہ فضل و کرم غوث اعظم
تم ایسے غریبوں کے فریاد رس ہو
کہ ٹھہرا تمہارا علم غوث اعظم
باعین عنایت بچشم کرامت
بدہ جرعۂ ناچشم غوث اعظم
تیرا ایک قطرہ عوالِم نما ہے
نہیں چاہیے جامِ جم غوث اعظم
کچھ ایسا گمادے محبت میں اپنی
کہ خود کہہ اٹھوں میں منم غوث اعظم
جِسَے چاہے جو دے جِسَے چاہے نہ دے
تیرے ہاتھ میں ہے نِعم غوثِ اعظم
تیرا حسن نمکیں بھرے زخمِ دل کے
بنا مرہمے بر دلم غوثِ اعظم
ترقی کرے روز و شب دردِ الفت
نہ ہو قلب کا درد کم غوثِ اعظم
خدا رکھے تم کو ہمارے سروں پر
ہے بس اک تمہارا ہی دم غوثِ اعظم
دمِ نزع سرہانے آ جاو پیارے
تمہیں دیکھ کر نکلے دم غوثِ اعظم
تیری دید کے شوق میں جانِ جاناں
کھنچ آیا ہے آنکھوں میں دم غوثِ اعظم
کوئی دم کے مہماں ہیں آ جاؤ اس دم
کہ سینے میں اٹکا ہے دم غوث اعظم
دم نزع آؤ کہ دم آئے دم میں
کرو ہم پہ یاسین دم غوث اعظم
یہ دل یہ جگر ہے یہ آنکھیں یہ سر ہے
جہاں چاہو رکھو قدم غوث اعظم
سر خود بہ شمشیر ابرو فروشم
بہ مژگاں تو سینہ ام غوث اعظم
بہ پیکاں تیرت جگر می فروشم
بہ تیر نگاہت دلم غوث اعظم
دماغھم رسد بر سر عرش اعلیٰ
بہ پایات اگر سر نہم غوث اعظم
میری سربلندی یہیں سے ہے ظاہر
کہ شد زیر پایت سرم غوث اعظم
لگا لو میرے سر کو قدموں سے اپنے
تمہیں سرِّ حق کی قسم غوث اعظم
قدم کیوں لیا اولیاء نے سروں پر
تمہیں جانو اس کے حکم غوث اعظم
کیا فیصلہ حق و باطل میں تم نے
کیا حق نے تم کو حکم غوث اعظم
تمھاری مہک سے گلی کوچے مہکے
ہے بغداد رشکِ ارم غوث اعظم
کرم سے کیا رہنما رہزنوں کو
ادھر بھی نگاہِ کرم غوث اعظم
میرا نفسِ سرکش بھی رہزن ہے میرا
یہ دیتا ہے دم دم بہ دم غوثِ اعظم
دکھا دے تو اِنِّی عَظُومُون کے جلوے
سُنا دے صداے منم غوثِ اعظم
میرے دم کو اس کے داموں سے بچا لے
کرم کر، کرم کر، کرم غوثِ اعظم
میں ہوں ناتواں سخت کمزور حد کا
ہیں زوروں چڑھے اس کے دم غوثِ اعظم
نہ پلّہ ہو ہلکا ہمارا نہ ہم ہوں
نہ بگڑے ہمارا بھرم غوثِ اعظم
کہاں تک ہماری خطائیں گنیں گے
کریں عفو سب یک قلم غوثِ اعظم
ہماری خطاؤں سے دفتر بھرے ہیں
کرم کر کے ہوں حل عدم غوث اعظم
تمہارے کرم کا ہی نوری بھی پیاسا
ملے یم سے اس کو بھی نم غوث اعظم