Tu Shama’e Risaalat He
Written by Huzoor Mufti-e-Azam Hind Allama Mustafa Raza Khan Noori
Urdu
Complete Ash'aar & Transliteration
Matla to Maqtaتو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہِ نبوّت ہے اے جلوۂ جانانہ
جو ساقیِ کوثر کے چہرے سے نقاب اٹھّے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ
دل اپنا چمک اٹھّے ایمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ
سرشار مجھے کر دے ایک جامِ لباب سے
تا حشر رہے ساقی آباد یہ میخانہ
تم آے چھٹی بازی رونق ہوئی پھر تازی
کاعبہ ہوا پھر کاعبہ کر ڈالا تھا بت خانہ
مست مے الفت ہے مدہوش محبت ہے
فرزانہ ہے دیوانہ، دیوانہ ہے فرزانہ
مے شاہ نشیں ٹوٹے دل کو نہ کہوں کیسے
ہے ٹوٹا ہوا دل ہی، مولا تیرا کاشانہ
کیوں زلفِ معنبر سے کوچے نہ مہک اٹھتے
ہے پنجہِ قدرت جب، زلفوں کا تیری شانہ
اس در کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھہری
ہے زہرِ معاصی کا طیبہ ہی شفا خانہ
ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری
بلبل ہے تیرا بلبل پروانہ ہے پروانہ
پیتے ہیں تیرے در کا کھاتے ہیں تیرے در کا
پانی ہے تیرا پانی دانا ہے تیرا دانا
ہر آرزو بر آئے سب حسرتیں پوری ہوں
وہ کان ذرا دھر کر سن لیں میرا افسانہ
سنگِ درِ جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ
گر پڑ کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الٰہی اب سنگِ درِ جانانہ
سنگِ درِ جاناں ہے ٹھوکر نہ لگے اس کو
لے ہوش پکڑ اب تو اے لغزشِ مستانہ
وہ کہتے نہ کہتے کچھ وہ کرتے نہ کرتے کچھ
اے کاش وہ سن لیتے مجھ سے میرا افسانہ
اے مفلسو، نادارو، جنت کے خریدارو
کچھ لائے ہو بیانہ، کیا دیتے ہو بیانہ
کچھ نیک عمل بھی ہیں، یا یوں ہی عمل ہی ہے
دنیا کی بھی ہر شے کا تم لیتے ہو بیانہ
کچھ اس سے نہیں مطلب، ہے دوست کہ دشمن ہے،
ان کو تو کرم کرنا، اپنا ہو کہ بیگانہ
حبِّ صنمِ دنیا سے پاک کر اپنا دل
اللہ کے گھر کو بھی ظالم کیا بت خانہ
تھے پاؤں میں بے خود کے، چھالے، تو چلا سر سے
ہوشیار ہے دیوانہ، ہوشیار ہے دیوانہ
آنکھوں میں میری تو آ، اور دل میں میرے بس جا
دل شاد مجھے فرما، اے جلوۂ جانانہ
آباد اسے فرما ویراں ہے دلِ نوری
جلوے تیرے بس جائیں آباد ہو ویرانہ
سرکار کے جلووں سے روشن ہے دلِ نوری
تا حشر رہے روشن نوری کا یہ کاشانہ